سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا، فواد چوہدری

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2023
<p>فواد چوہدری نے لاہور میں حماد اظہر کے ہمراہ میڈیا سے بات کی—فوٹو: ڈان نیوز</p>

فواد چوہدری نے لاہور میں حماد اظہر کے ہمراہ میڈیا سے بات کی—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے عدلیہ سے معاملات میں مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ملک میں بڑا سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ 22 کروڑ کا ملک اس وقت بالکل لاوارث ہوگیا ہے جہاں روزانہ بے یقینی کے سائے ہیں جو لاد دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ اور وزیراعظم جس طریقے سے حکومت کر رہے ہیں، اس پر شرم آتی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پہلے پاکستان تحریک انصاف کے استعفے قبول ہی نہیں ہو رہے تھے جب کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کو ہٹانے کے لیے جارہے ہیں تو تین دن تک سیکریٹریٹ بند تھا لیکن پھر سیکریٹریٹ سے نوٹیفکیشن آتا ہے اور الیکشن کمیشن کی حیثیت اس حکومت میں ایک منشی کی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کا زوال اس حکومت میں دیکھا ہے اس سے پہلے نہیں دیکھا، الیکشن کمیشن کو فون کیا جاتا ہے اور الیکشن کمشنر کلرک کی طرح دستخط کرکے بھیج دیتا ہے۔

مزید الزامات عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو حکم دیا جاتا ہے کہ محسن نقوی وزیراعلیٰ ہوگا تو وہ دستخط کردیتا ہے، اگر اتنے کمزور ہیں تو اپنے گھروں میں جا کر بیٹھ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت اور وزیراعلیٰ صرف تین مہینوں کے لیے ہیں، 4، 5 یا سال کے لیے ہیں لیکن ہم آپ کا پیچھا اس وقت تک کریں گے جب تک ہم آپ کو قرار واقعی سزا نہ دے دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کا ہم پر یہ قرض ہے کہ اس حکومت میں شامل لوگوں کو ان کے گھروں تک چھوڑ کر آئیں، وہ تمام لوگ جو 25 مئی کے واقعات میں ملوث تھے اور جنہوں نے انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی تھی، اب ان کو واپس لایا جا رہا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ آج ہم نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ہے کہ جو لوگ 25 مئی کے واقعات میں ملوث تھے، ان کو پنجاب میں تعینات نہیں کیا جائے، اس کے باوجود وہ یہاں تعینات رہے یا تعینات کیے گئے تو پھر ہم الیکشن کمیشن اور ان کے اراکین، ان کے خاندانوں اور ان لوگوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ ہوا تو آپ کو واپس سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑا صبر کیا ہے، ہم نے بڑی احتیاط کی ہے لیکن یہ معاملہ چلنے کا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں اس وقت 40 فیصد نشستیں خالی ہیں، یہ نشستیں اگر دوبارہ مکمل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو 17 سے 20 ارب روپے درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہوچکی ہیں اور آپ کو اس نئے سیٹ اپ کی بحالی کے لیے 40 سے 50 ارب روپے خرچ کرنے پڑیں گے یا 3 مہینے بعد 60 فیصد نشستوں کے لیے قومی اسمبلی توڑیں اور دوبارہ اتنا خرچ کریں۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت ہمارے ایوانوں میں مجموعی طور پر 65 فیصد نشستیں خالی ہیں، 35 فیصد نشستیں بنانے کے لیے دوبارہ انتخابات ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں عدلیہ سے کہتا ہوں کہ اپنا کردار ادا کریں اور یہ بحران آپ کی وجہ سے آیا ہے، اگر آج سپریم کورٹ نے اسپیکر کی رولنگ کو الیکشن تک ختم نہیں کیا ہوتا تو آج ملک میں الیکشن ہوچکے ہوتے اور آج پاکستان میں ہر چیز اپنی جگہ پر آچکی ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے پاکستان میں اتنا بڑا سیاسی بحران آیا ہے جس سے 22 کروڑ لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے، ایک نااہل وزیراعظم اور اس کی کابینہ کو مسلط کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل سے بجلی بند ہے لیکن توانائی کے وزیر خرم دستگیر خان کبھی ایک دن میں پائے کھا رہا ہے اور کبھی دوسری دکان میں جا رہے ہیں اور پھر پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں جو سیٹ اپ چلایا جا رہا ہے اس کا آئین سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ مافیاز کا سیٹ اپ ہے، پاکستان ایک بدترین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور سیاسی تباہی ہوچکی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ گورنر پنجاب اور گورنر خیبرپختونخوا انتخابات کی تاریخ نہیں دے کر آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ہمیں جب بھی موقع ملا تو ان کے گلوں میں وہی رسے فٹ آئیں گے جو ہمارے آئین نے فراہم کیے ہیں۔

اس موقع پر حماد اظہر نے کہا کہ ہم محسن نقوی کے خلاف عدالت میں جاکر ان کی جانب داری کا ثبوت دیں گے اور پی ٹی آئی چیئرمین نے فیصلہ کیا ہے جو شخص بھی قائم مقام سیٹ اپ کا حصہ بنتا ہے چاہے وہ سرکاری افسر یا جس کو تعینات کیا گیا ہو اس نے غیرجانب داری کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔

حماد اظہر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس حلف کی خلاف ورزی کرتا ہے تو تحریک انصاف اقتدار میں آتے ہی جو پہلا کام کرے گی کہ ان لوگوں کو جو جمہوری عمل کے اندر مداخلت کریں گے اور لوگوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے تو ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ کریں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں