لندن: برطانیہ میں 200 پناہ گزین بچے لاپتا

24 جنوری 2023
<p>وزیرامیگریشن کے مطابق کئی بچوں کا سراغ لگالیا گیا ہے—فوٹو: اے ایف پی</p>

وزیرامیگریشن کے مطابق کئی بچوں کا سراغ لگالیا گیا ہے—فوٹو: اے ایف پی

برطانیہ میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران والدین کے بغیر پناہ حاصل کرنے کے لیے آنے والے 200 بچے لاپتا ہوگئے ہیں۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیر برائے امیگریشن روبرٹ جینرک نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 200 بچے اپنے والدین کے بغیر برطانیہ میں پناہ لینے کے لیے پہنچے تھے لیکن وہ لاپتا ہیں۔

پارلیمنٹ کو اس حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان میں 13 بچے 16 سال سے کم عمر ہیں اور ایک لڑکی بھی شامل ہے اور اکثر کا تعلق البانیہ سے ہے۔

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پناہ کے خواہش مند بچوں کو جنوبی انگلینڈ کے علاقے برائٹون میں ہوٹل کے باہر سے جرائم پیشہ افراد ’اغوا‘ کر رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بچوں کو عمارت کے باہر سے اٹھایا جارہا ہے، لاپتہ ہوتے ہیں اور پھر معلوم نہیں ہوتا ہے، ٹریفکرز کی جانب سے انہیں گلیوں سے اٹھایا جا رہا ہے۔

سسیکس پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں برائیٹون میں ہوٹل سے لوگوں کے اغوا کی کوئی رپورٹ نہیں ملی لیکن ہوٹل میں موجود دو بچوں کو مئی 2022 میں ایک کار میں لے جانے کی ایک رپورٹ ملی تھی۔

پولیس نے کہا کہ گاڑی کو ایم25 موٹروے پر روکا گیا تھا اور انسانی ٹریفکنگ کے شبہے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

وزیرامیگریشن جینرک کا کہنا تھا کہ تین بچوں کو وزارت داخلہ کی گاڑی میں منتقل کرکے وہاں لے جایا گیا تھا اور جولائی 2021 سے 440 افراد کے لاپتہ ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں اور اس کے بعد پناہ کے خواہاں افراد واپس ہوٹل نہیں آئے جہاں کو عارضی طور پر مقیم تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں نرسز اور سماجی ورکز کے ساتھ معقول تعداد میں سیکیورٹی موجود تھی۔

وزیر کا کہنا تھا کہ عملے اور بچوں کے تحفظ کے لیے وہاں موجود سیکیورٹی گارڈز کو ہوٹل میں کسی قسم کی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر مقامی پولیس کا آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والے واقعات میں سے 88 فیصد کا تعلق البانیہ کے شہریوں سے ہے۔

برطانیہ کے وزیر امیگریشن کا کہنا تھا کہ جب کوئی بچہ لاپتہ ہوتا ہے تو لاپتہ افراد کے حوالے سے پولیس اور متعلہ مقامی حکام سمیت کئی ادارے متحرک ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لاپتہ ہوئے ہیں ان میں کئی ایک کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔

حکومتی اعداد وشمار کے مطابق انگلیڈ اور ویلز بھر میں ہر سال بچوں کے لیے قائم سہولتی مراکز سے لاپتہ ہونے کے 2 لاکھ سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں