افغانستان میں شدید برف باری، جاں بحق افراد کی تعداد 124 ہوگئی

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2023
<p>افغانستان میں شدید برف باری کے بعد خاص طور پر پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے—فوٹو: بی بی سی</p>

افغانستان میں شدید برف باری کے بعد خاص طور پر پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے—فوٹو: بی بی سی

افغانستان میں شدید برف باری کے باعث پہاڑی علاقوں میں اب تک 124 افراد جاں بحق ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں درجہ حرارت منفی ہونے کے بعد شدید برف باری کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 124 ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک دہائی بعد ہونے والی شدید سردی کے دوران برف باری سے 70 ہزار کے قریب مویشیاں بھی ہلاک ہوگئی ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان حکام کی طرف سے خواتین کو ملازمت پر نہ رکھنے کی ہدایت کے بعد متعدد غیرسرکاری فلاحی ادارے (این جی اوز) نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

ملک کے محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے قائم مقام وزیر ملا محمد عباس اخوند نے کہا کہ برف باری کی وجہ سے افغانستان کے متعدد علاقوں سے رابطے منقطع ہوگئے ہیں جہاں لوگوں کو نکالنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں مگر کئی پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹر نیچے نہیں اتر سکتے۔

قائم مقام وزیر نے کہا کہ اگلے 10 دن تک درجہ حرارت منفی رہنے کی پیش گوئی ہے، تاہم انہوں نے شہریوں اور ان کے مویشیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ زیادہ تر جاں بحق ہونے والوں میں چرواہے اور دیہی علاقوں میں رہنے والے شامل ہیں جن کو طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں کے بارے میں تشویش ہے جو اب بھی پہاڑی علاقوں میں رہ رہے ہیں، پہاڑوں سے گزرنے والی زیادہ تر سڑکیں برف باری کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں، کاریں وہاں پھنس گئی ہیں اور درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے مسافر ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں عمومی طور پر سردیاں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس بار موسم سرما میں دہائی بعد اتنی شدت سے سردی آئی ہے۔

ایسی صورت حال میں این جی اوز اور فنڈنگ اداروں نے بھی اپنی سرگرمیاں معطل کی ہوئی ہیں کیونکہ گزشتہ ماہ طالبان نے انہیں خواتین کو ملازمتوں پر رکھنے سے منع کیا تھا۔

تاہم ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے قائم مقام وزیر ملا محمد عباس اخوند نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ واپس نہیں کیا جا سکتا، عالمی برادری کو افغانستان کے اسلامی کلچر کو تسلیم کرنا ہوگا۔

امدادی اہلکاروں بشمول اقوام متحدہ اور دیگر ادارے فوری طور پر اس پابندی کے باوجود کام کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں