ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کا زلزلہ، 2 ہزار 600 سے زائد افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 06 فروری 2023
<p>—فوٹو: اے ایف پی</p>

—فوٹو: اے ایف پی

<p>—فوٹو: اے ایف پی</p>

—فوٹو: اے ایف پی

<p>—فوٹو:رائٹرز</p>

—فوٹو:رائٹرز

<p>—فوٹو:رائٹرز</p>

—فوٹو:رائٹرز

<p>— فوٹو: اے ایف پی</p>

— فوٹو: اے ایف پی

<p>—فوٹو:رائٹرز</p>

—فوٹو:رائٹرز

<p>— فوٹو: اندولو ایجنسی</p>

— فوٹو: اندولو ایجنسی

<p>— فوٹو: اے ایف پی</p>

— فوٹو: اے ایف پی

<p>شام کے شمال مغربی شہر عفرین زلزلے کے بعد شہری منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے میں متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی</p>

شام کے شمال مغربی شہر عفرین زلزلے کے بعد شہری منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے میں متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی

ترکیہ کے جنوب اور شمالی شام میں 7.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں ترکیہ میں ایک ہزار 651 اور شام میں 968 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے وزیر صحت نے بتایا کہ زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار 651 ہوچکی ہے اور 11 ہزار 119 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دمشق کے حکام کے مطابق شام میں ہلاکتوں کی تعداد 968 تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد 7.8 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں دونوں ممالک میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر دو ہزار 600 ہوگئی ہے۔

ترکیہ اور شام میں آنے والے بدترین زلزلے کے حوالے سے تاحال حتمی طور پر واضح نہیں ہے کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور دوسرے زلزلے کے بعد نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد اور لاشیں نکالنے کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ترکیہ کے جنوبی علاقے دیار باقر میں زخمی ہونے والے خاتون نے ایمبولینس میں منتقلی کے دوران بتایا کہ ہم جھولے کی طرح جھول گئے تھے اور اس وقت گھر میں ہم 9 افراد موجود تھے، میرے دو بیٹے تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور مجھے ان کا انتظار ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون کا خاندان دیار باقر میں واقع 7 منزلہ عمارت میں رہائش پذیر تھا، عمارت بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور خاتون کا بازو ٹوٹ گیا اور چہرے پر بھی زخم آئے ہیں۔

ترکیہ میں 1999 میں استنبول کے قریب مشرقی مرمرا کے ساحلی خطے میں آنے والے زلزلے میں 17 ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں اور اس کے بعد یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

ترک صدر طیب اردوان نے زلزلے کو تاریخ کا بدترین بحران اور 1939 کے بعد بدترین زلزلہ قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکام جتنا کرسکتے ہیں وہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر کوئی امدادی کاموں میں مکمل طور پر مصروف ہے جبکہ سردی کا موسم ہے اور زلزلہ رات کے وقت آیا جس کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا ہوئیں۔

ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی نے دکھایا کہ جنوبی صوبے ادانا میں ایک عمارت سیکنڈز میں زمین بوس ہو رہی ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہاں سے شہریوں کو نکالا جاسکا یا نہیں۔

دوسری جانب 11 برس سے خانہ جنگی کا شکار ملک شام کے وزیر صحت نے بتایا کہ 461 افراد ہلاک اور ایک ہزار 326 زخمی ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا کہ شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں 255 افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ ملکی تاریخی میں سب سے شدید زلزلے کے نتیجے میں 912 افراد جاں بحق اور 5 ہزار 383 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

ترکیہ کے صدر کا کہنا تھا کہ 1939 کے بعد ملک میں آنے والی یہ سب سے بڑی آفت ہے جس میں 2 ہزار 818 گھر منہدم ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق شام کی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ شام کی حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں 7.8 شدت کے زلزلے میں 430 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 315 زخمی ہوئے اور زلزلےکا مرکز جنوب مشرقی ترکیہ میں تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام کے مختلف شہروں حلب، حما، لطاکیہ اور طرطوس سمیت حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں زلزلے سے 430 افراد ہلاک اور لگ بھگ ایک ہزار 315 زخمی ہوگئے۔

امدادی کارکنوں نے بتایا کہ ملک کے شمال مغرب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں 380 افراد ہلاک اور ایک ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے بتایا کہ جنوب مشرقی ترکیہ میں 7.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس سے کئی شہروں میں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جبکہ پڑوسی ملک شام میں بھی نقصان ہوا ہے۔

امریکی ایجنسی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 17 منٹ پر آیا اور اس کی گہرائی تقریباً 17.9 کلومیٹر تھی، جس کے 15 منٹ بعد 6.7 شدت کا آفٹر شاک بھی آیا۔

ترکیہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ پریزیڈنسی (اے ایف اے ڈی) نے پہلے زلزلے کی شدت 7.4 رپورٹ کی۔

ترکیہ میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے متاثرین کو تلاش کیا جا رہا ہے —فوٹو: اے ایف پی
ترکیہ میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے متاثرین کو تلاش کیا جا رہا ہے —فوٹو: اے ایف پی

ترک ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں ریسکیو اہلکاروں کو کہرامنماراس اور ہمسایہ شہر غازیانتپ میں عمارتوں کے ملبے کو کھودتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ تمام شہری جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ ہم جلد از جلد اور کم سے کم نقصان کے ساتھ مل کر اس آفت سے نکل آئیں گے۔

رپورٹ کے مطابق زلزلہ اس وقت آیا جب زیادہ تر لوگ ابھی گھروں میں سو رہے تھے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافےکا خدشہ ہے۔

این ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ زلزلے سے مزید دو شہروں ادیامان اور ملاتیا میں بھی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

سی این این ترکیہ ٹیلی ویژن نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے وسطی ترکیہ اور دارالحکومت انقرہ کے چند حصوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا اظہار تعزیت، ’امدادی ٹیمیں بھیجی جارہی ہیں‘

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکیہ میں شدید زلزلے سے ہونے والے نقصانات پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور سینیٹ میں ترکیہ اور شام میں زلزلے سے جاں بحق افراد کے لیے دعا کی گئی۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق اپنے تعزیتی بیان میں شہباز شریف نے ترکیہ کی حکومت اور عوام سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت اور عوام مشکل کی اس گھڑی میں برادر ملک ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، ترکیہ نے ہر مشکل میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، پاکستان اپنے برادر ملک ترکیہ کے عوام اور حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی کے بڑھتے واقعات پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، یہ انسانیت اور کرہ ارض کی بقا کا معاملہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہی۔

بعد ازاں وزیراعظم شہبازشریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کرکے زلزلے سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ترکیہ کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بے حد رنجیدہ ہیں اور غم زدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے بھائی ترکیہ اور اس کے عوام کے ساتھ ہے، زلزلے کی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔

وزیراعظم نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ڈاکٹروں، طبی عملے اور امدادی کارکنوں پر مشتمل ٹیمیں ترکیہ بھیجی جا رہی ہیں تاکہ اس وقت جاری امدادی کاموں میں مدد کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ادویات اور دیگر ضروری اشیا لے کر ایک طیارہ بھی جلد ہی بھیجا جا رہا ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون اور حمایت کرنے پر وزیراعظم شہبازشریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم اور پاکستانی عوام کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔

دکھ کی اس گھڑی میں ترک بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، دفتر خارجہ

دریں اثنا دفتر خارجہ نے بھی ترکیہ میں زلزلے سے ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ حکومتِ پاکستان اور عوام یہ جان کر شدید صدمے میں ہیں کہ آج ترکیہ کے متعدد حصوں میں شدید زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام دکھ کی اس گھڑی میں اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان امدادی کارروائیوں میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے، ہمیں یقین ہے کہ ترک قوم اس قدرتی آفت پر خصوصی ہمت اور عزم کے ساتھ قابو پالے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں