لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ محمد عامر کے بابر اعظم سے متعلق بیان پر حیرت ہوئی، بابر اعظم ایک ورلڈ کلاس بلے باز ہے، اگر ہم اُن کی عزت نہیں کریں گے تو کون کرےگا؟

یاد رہے کہ ایک انٹرویو میں محمد عامر سے سوال کیا گیا کہ ’سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ پشاور اور کراچی کا میچ بابر بمقابلہ عامر ہوگا تو کیا اس میں حقیقت ہے؟‘

جواب میں محمد عامر نے کہا تھا کہ ’میرا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، میرے لیے بابر بھی ویسا ہی ہے جیسے ٹیل اینڈر کھیل رہا ہو، میرا کام ہے ٹیم کو وکٹس لے کر دینا‘۔

گزشتہ روز جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ محمد عامر کے بابر اعظم سے متعلق بیان پر حیرت ہوئی، بابر اعظم ایک ورلڈ کلاس بلے باز ہے، لوگ اسے کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم ہمارے کپتان ہیں، اگر ہم ان کی عزت نہیں کریں گے تو کون کرےگا؟

لاہور قلندرز کے کپتان نے کہا کہ ماضی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچ میں سرفراز احمد کے ساتھ ان کی تلخی آج بھی ان کے لیے ایک افسوس ناک لمحہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سرفراز احمد سے تب بھی معافی مانگی تھی اور آج بھی وہ ان سے معافی مانگتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

#محمد رضوان کا ردعمل

اس کے علاوہ ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے بھی محمد عامر کے بابر اعظم سے متعلق بیان پر ردعمل دیا۔

سما نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا کہ پاکستان کے لیے جو بھی کپتان ہوگا وہ ہمارا کپتان ہے، جو لوگ تنقید کرتے ہیں وہ جس طرح کا کپتان چاہتے ہیں اس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی۔

ملتان سلطان کے کپتان نے محمد عامر کا نام لیے بغیر کہا کہ بابر انسان ہے، ان سے بھی غلطی ہوسکتی ہے، اور جو تنقید کررہا ہے اس کی بھی غلطی ہوسکتی ہے، ہمیں مل کر پاکستان کے لیے سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بابر بڑا کھلاڑی ہے اس کا بڑا دل ہے اور بابر کا رزلٹ سب کے سامنے ہے۔

ٹیم میں کھلاڑیوں کے درمیان دوستی پر تنقید کرنے والوں کے حوالے سے محمد رضوان نے کہا کہ ٹیم میں دوستی یاریوں سے ہی ایک ٹیم بنتی ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ ٹیم میں لڑائی جھگڑا ہو تو آپ کہیں گےکہ ٹیم میں گروپ بندی ہوگئی ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں