کراچی کنگز کی پہلی فتح، لاہور قلندرز کو یکطرفہ مقابلے میں 67رنز سے شکست

19 فروری 2023
فخر زمان کی وکٹ لینے پر کراچی کنگز کے کھلاڑی عامر یامین کو داد دے رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
فخر زمان کی وکٹ لینے پر کراچی کنگز کے کھلاڑی عامر یامین کو داد دے رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
کراچی کنگز کو اوپنرز جیمز ونس اور میتھیو ویڈ نے 70رنز کا آغاز فراہم کیا— فوٹو: پی ایس ایل
کراچی کنگز کو اوپنرز جیمز ونس اور میتھیو ویڈ نے 70رنز کا آغاز فراہم کیا— فوٹو: پی ایس ایل

پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کے میچ میں کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 67 رنز سے شکست دے کر ایونٹ میں پہلی کامیابی حاصل کر لی۔

کراچی کے نیشنل بینک ارینا میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کے میچ میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

کراچی کنگز نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز میتھیو ویڈ اور جیمز ونس نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے اپنی ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا۔

دونوں کھلاڑیوں نے پاور پلے کا خوب فائدہ اٹھایا اور ابتدائی چھ اوورز میں شاہین آفریدی اور حارث رؤف سمیت تمام باؤلرز کو آڑے ہاتھوں لیا۔

دونوں نے ابتدائی 7 اوورز میں اپنی ٹیم کو 70رنز کا آغاز فراہم کیا، قلندرز کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں میتھیو ویڈ رن آؤٹ ہو گئے، انہوں نے 36 رنز کی باری کھیلی۔

جیمز ونس کا ساتھ دینے نوجوان حیدر علی آئے اور دونوں نے مل کر ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن 102 کے مجموعے پر لیام ڈاسن نے حیدر کی 18 رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

نئے بلے باز شعیب ملک کا وکٹ پر قیام بھی مختصر رہا اور صرف دس رنز بنانے کے بعد انہوں نے بھی ڈگ آؤٹ کی راہ لی، تجربہ کار بلے باز کو فیلڈ امپائر نے آؤٹ قرار نہیں دیا تھا جس پر لاہور قلندرز نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا کیونکہ گیند ان کے بلے باز کنارہ لینے کے بعد وکٹ کیپر کے دستانوں میں محفوظ ہو گئی تھی۔

کراچی کنگز کو 14ویں اوور میں سب سے بڑا دھچکا لگا اور انگلینڈ کے جیمز ونس 46 رنز بنانے کے بعد زمان خان کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے بعد عماد وسیم کا ساتھ دینے بین کٹنگ آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 52رنز کی شراکت قائم کی۔

اننگز کے آخری اوور کی پہلی گیند پر شاہین نے کٹنگ کو بولڈ کر کے اس شراکت کا خاتمہ کیا تاہم دوسرے اینڈ سے عماد وسیم ڈٹے رہے اور اپنی ٹیم کو معقول مجموعے تک رسائی دلائی۔

کراچی کنگز نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 185 رنز بنائے، کٹنگ نے 20 اور عماد وسیم نے 35 رنز کی اننگز کھیلیں۔

لاہورقلندرز کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، زمان خان، حارث رؤف اور لیام ڈاسن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ہدف کے تعاقب میں اوپنرز فخر زمان اور مرزا طاہر بیگ نے ٹیم کو مثبت آغاز فراہم کرتے ہوئے 40رنز کی شراکت قائم کی لیکن اسی اسکور پر عامر یامین نے فخر زمان کو بولڈ کر کے اپنی ٹیم کو پہلی کامیابی دلائی۔

کراچی کنگز کو دوسری وکٹ کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور عامر کی گیند پر عرفان نیازی نے پوائنٹ پر بہترین کیچ لے کر ویسٹ انڈیز سے آئے شے ہوپ کو چلتا کردیا۔

طاہر بیگ کا ساتھ دینے کامران غلام آئے لیکن 41 رنز کی شراکت قائم کرنے کے باوجود دونوں ہی بلے باز تیزی سے رنز اسکور کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے رن ریٹ مسلسل بڑھتا گیا اور اسی کی وجہ سے تیز کھیلنے کی کوشش میں طاہر بیگ کی 45 رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔

عاکف جاوید ایک گیند ہی اپنی ٹیم کو ایک اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے کامران غلام کی 23 رنز کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا جبکہ عماد وسیم نے حسین طلعت کو نشانہ بنا کر اپنی ٹیم کو پانچویں کامیابی دلائی۔

سکندر رضا اور ڈیوڈ ویزے نے ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن 106 کے مجموعے پر ویزے بھی ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر چلتے بنے۔

اس کے بعد کراچی کنگز کو قلندرز کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری ٹیم صرف 118 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔

مہمان ٹیم کے ٹیل اینڈرز کراچی کنگز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قلندرز کی آخری چاروں وکٹیں 118 کے مجموعے پر گریں۔

کراچی کنگز نے 67 رنز کی بڑی فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایونٹ میں پہلی کامیابی حاصل کر کے دو قیمتی پوائنٹس بھی اپنے نام کر لیے۔

میزبان ٹیم کی جانب سے عاکف جاوید چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ عامر یامین اور بین کٹنگ نے دو، دو وکٹیں اپنے نام کیں۔

عماد وسیم کو جارحانہ بیٹنگ کے ساتھ ساتھ نپی تلی باؤلنگ کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

کراچی کنگز: عماد وسیم(کپتان)، جیمز ونس، حیدر علی، شعیب ملک، میتھیو ویڈ، عرفان نیازی، عامر یامین، بین کٹنگ، عاکف جاوید، عمران طاہر اور محمد عامر۔

لاہور قلندرز: شاہین شاہ آفریدی(کپتان)، فخر زمان، طاہر بیگ، شے ہوپ، کامران غلام، حسین طلعت، سکندر رضا، لیام ڈاسن، ڈیوڈ ویزے، حارث رؤف اور زمان خان،

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں