ججوں اور فوجیوں سمیت سرکاری افسران کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات طلب

اپ ڈیٹ 07 مارچ 2023
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے آڈیٹر جنرل کو ایک ماہ کے اندر سپریم کورٹ کا آڈٹ کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی— فائل فوٹو: اے پی پی
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے آڈیٹر جنرل کو ایک ماہ کے اندر سپریم کورٹ کا آڈٹ کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی— فائل فوٹو: اے پی پی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ججوں اور فوجیوں سمیت تمام سرکاری افسران کو ملنے والی مراعات اور پلاٹس کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ججز کو ملنے والی مراعات کا معاملہ زیر بحث آیا۔

چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی تنخواہوں اور مراعات کی رپورٹ مانگی تھی، آڈیٹر جنرل نے اب تک رپورٹ کیوں نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو پتا ہونا چاہیے کہ ان کے پیسے سے کسے کیا مراعات اور تنخواہیں مل رہی ہیں لہٰذا بتایا جائے کسے کتنی مراعات اور پلاٹ ملے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نے آڈیٹر جنرل کو ایک ماہ کے اندر سپریم کورٹ کا آڈٹ کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

اس موقع پر ڈان نے نور عالم خان سے سوال کیا کہ کیا فوجی افسران کی مراعات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ تمام سرکاری افسران کو ملنے والی مراعات اور پلاٹس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

یہ پیشرفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ سینیٹ میں ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے ججوں، جرنیلوں اور قانون سازوں کے لیے مراعات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے نکتہ اعتراض گفتگو کے دوران ایک دستاویز لہراتے کر پڑھ کر سناتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ریٹائرڈ جج کو ماہانہ پنشن کی مد میں تقریباً 10 لاکھ روپے ملتے ہیں، اس کے علاوہ مفت بجلی کے 2 ہزار یونٹ، 3 سو لیٹر مفت پیٹرول اور 3 ہزار روپے کی مفت فون کالز ملتی ہیں حالانکہ اس لگژری طرز زندگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے ’پروٹوکول کلچر‘ کے خاتمے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ 60 بلٹ پروف لگژری گاڑیاں صرف کابینہ کے ارکان کے استعمال میں ہیں جبکہ ’دیگر بڑے افراد‘ کے پاس ایسی گاڑیاں ہیں جو ایک ٹرک جتنا تیل استعمال کرتی ہیں۔

ان کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سرکاری گاڑیاں مفت پیٹرول سے بھری ہوئی ہیں اور کسی کے لیے بھی بجلی، گیس یا پیٹرول مفت نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ کے جج (تعطیلات، سہولیات اور پینشن) آرڈر 1997 کے مطابق چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے دیگر ججز اپنی ریٹائرمنٹ، مستعفیٰ یا برطرفی کے بعد تنخواہ کا 70 فیصد بطور پنشن وصول کرسکتے ہیں، جج کی سروس کی تکمیل کے پانچ سال بعد صدر مملکت وقتاًفوقتاً ان کی پنشن کا تعین کرتا رہے گا ، اور پانچ سال بعد ان کی تنخواہ میں ہر سال دو فیصد اضافہ ہوگا البتہ سروس آف پاکستان کے تحت ان کی پنشن میں تنخواہ کے 80 فیصد سے زائد کا اضافہ نہیں ہوگا۔

اس سلسلے میں جب ڈان نے وکیل ریاض حنیف راہی سے رابطہ کیا تھا تو انہوں نے بتایا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہائی کورٹ کے ججز کو ماہانہ 800 مفت لوکل کالیں، ماہانہ 800 یونٹ بجلی، 25 کیوبک میٹر قدرتی گیس، پانی کی مفت فراہمی، ماہانہ 150 لیٹر پیٹرول وغیرہ کی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں