وزیراعلیٰ بلوچستان کی ’باغیوں‘ کو مذاکرات کی دعوت

اپ ڈیٹ 12 مارچ 2023
میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بندوق اٹھانے اور پہاڑوں پر چڑھنے کے بجائے مسائل کو حل کریں — فائل فوٹو:ڈان نیوز
میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بندوق اٹھانے اور پہاڑوں پر چڑھنے کے بجائے مسائل کو حل کریں — فائل فوٹو:ڈان نیوز

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایک بار پھر ناراض بلوچ مزاحمت کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ پہاڑوں سے اتر آئیں اور حکومت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اگر پہاڑوں پر رہنے والے اپنے آپ کو بلوچستان کے عوام کا خیر خواہ سمجھتے ہیں تو انہیں کئی دہائیوں سے صوبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ ہوجانا چاہیے۔

انہوں نے گوادر کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام مسائل کا حل تلاش کرنے کا واحد راستہ بات چیت ہے، مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ یہ مناسب حل تلاش کرنے کا صحیح راستہ ہے‘۔

میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ’بندوق اٹھانے اور پہاڑوں پر چڑھنے کے بجائے مسائل کو حل کرنے اور بلوچستان کے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنے میں ہماری مدد کریں، لڑائی اور تصادم سے ہر کوئی متاثر ہوگا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں میرٹ کو نافذ کرنا اب حکومت کی اولین ترجیح ہے، صوبے میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نچلے درجے کے ملازمین کو بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سرکاری کاموں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ای ٹینڈرنگ کا نظام متعارف کرایا ہے، ایسے نظام کے قیام سے سفارشی کلچر ختم ہو جائے گا اور تمام ٹینڈرز میرٹ پر دیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ’ہم نے ملک کو عالمی عدالتوں کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری جرمانے سے بچا لیا ہے کیونکہ ہم نے ریکوڈک کے مسئلے کو دانشمندی سے حل کیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے لیے 25 فیصد حصہ یقینی بنایا اور اگلے چند سالوں میں ٹیکس، رائلٹی اور دیگر حصص سے اربوں ڈالر کمائے جاسکیں گے جو بلوچستان کو مالی طور پر مستحکم اور لوگوں کا معیار زندگی بدل دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تربت سمیت تمام اضلاع کی ترقی کے لیے مساوی فنڈز فراہم کر رہی ہے کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ تمام علاقوں کی ترقی ہو۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں