• KHI: Zuhr 12:33pm Asr 5:15pm
  • LHR: Zuhr 12:03pm Asr 4:59pm
  • ISB: Zuhr 12:09pm Asr 5:09pm
  • KHI: Zuhr 12:33pm Asr 5:15pm
  • LHR: Zuhr 12:03pm Asr 4:59pm
  • ISB: Zuhr 12:09pm Asr 5:09pm

اب عمران خان جلسہ کرے یا جلسی، ایسے رستہ نہیں ملے گا، خواجہ سعد رفیق

شائع March 27, 2023
وزیر ریلوے و ہوا بازی نے کہا  ریفارمز   اسی وقت ہوں گی جب سیاسی جماعتیں بیٹھ کر بات کریں گی—فوٹو:ڈان نیوز
وزیر ریلوے و ہوا بازی نے کہا ریفارمز اسی وقت ہوں گی جب سیاسی جماعتیں بیٹھ کر بات کریں گی—فوٹو:ڈان نیوز

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس ملک میں جوتے کھانے کے لیے پیدا نہیں ہوئے، اب عمران جلسہ کرے یا جلسی، ایسے رستہ نہیں ملے گا، ہمارا پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گرین لائنز کی طرح دو نئی ٹرینوں کا آغاز کر رہے ہیں جن کی شمولیت سے گرین لائن ٹرین پر بوجھ کم ہو گا،پشاور سے کراچی تک نئی کارگو سروس کا آغاز کرنے کا ارادہ ہے،ایسا پلان دیں گے کہ 5 سال میں ارب ریونیو اشتہارات سے کمایا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے اسٹیشنوں پر 2600 دکانداروں کی نیلامی کا مرحلہ شروع ہو چکاہے، ناجائز قبضہ کرنے والوں کو جگہ چھوڑنی ہو گی یا رقم ادا کرنا ہو گی۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، ریلوے اسٹیشنز اور دفاتر کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، پاکستان ریلوے نے 100 دنوں کے لیے ایک پلان بنایا ہے، گرین لائنز کی طرح دو نئی ٹرینوں کا آغاز کر رہے ہیں جن کی شمولیت سے گرین لائن ٹرین پر بوجھ کم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پشاور سے کراچی تک نئی کارگو سروس کا آغاز کرنے کا ارادہ ہے،گرین لائن ٹرین کی طرز پر ایک اور ٹرین 30 جون تک چلائیں گے، ریلوے کو اپ گریڈ کرنا ہے لیکن اس کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، اسے آہستہ آہستہ بہتر کریں گے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ اگر پاکستان سے کھلواڑ نہ کیا جاتا تو اگلے پانچ سال میں 90 فیصد اکانومی کلاس کو اے سی اسٹینڈرڈ میں منتقل کر دیتے، عید پر خصوصی ٹرینیں عوام اور شالیمار ایکسپریس چلائیں گے تاکہ مسافروں کو عید اپنے گھروں میں منانے کی سہولت دی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کا معاشی بحران شدید ہو گیا ہے ،مسافروں کو خیال رکھنا چاہئے کہ وہ پلیٹ فارم سائیڈ سے نیچے اتریں ورنہ انہیں نقصان ہو سکتا ہے، مسافروں کی سہولت کے لیے پلیٹ فارم پر ہر گاڑی کے رکنے کا وقت چار سے پانچ منٹ کر دیا ہے، بندر گاہ پر کام نہیں ہو رہا جس سے ریلوے کو نقصان ہو رہا ہے، تنخواہوں کے ساتھ ہمیں پنشن بھی دینا پڑتی ہے،اگر ریلوے ملازمین کی پنشن کا بوجھ ختم کر دیا جائے تو ریلوے کا خسارہ کم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور اور رائیونڈ ریلوے سٹیشنز کے درمیان گرین لائن ریل کار کی بڈنگ کیلئے اشتہارات دیں گے جس سے ریونیو بہتر ہو گااور اگر کامیاب ہوئے تو ملک بھر میں یہ پلان مرتب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا پلان دیں گے کہ پانچ سال میں 8 ارب ریونیو اشتہارات سے کمایا جا سکے گا،ریلوے سٹیشنوں پر 2600 دکانداروں کی نیلامی کا مرحلہ شروع ہو چکاہے، ناجائز قبضہ کرنے والوں کو جگہ چھوڑنی ہو گی یا رقم ادا کرنا ہو گی، اس سلسلے میں کسی سے زیادتی یا اسے بے روزگار نہیں کریں گے، جو ریلوے کی زمین پر بیٹھے ہیں انہیں پیسے دینا ہوں گے،ریلوے کی اراضی کو کمرشل سرگرمیوں کیلئے استعمال کریں گے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پی آئی اے کے جہازوں کی تزئین و آرائش کی جا رہی ہے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ایئر پورٹس کو فروخت نہیں کر رہے صرف مقررہ وقت کے لیے آپریشنل کا نظام نجی کمپنیوں کو دیں گے، تین ایئر پورٹس پر کام جاری ہے تاکہ آئی ایف سی اور ہمارا لیگل معاہدہ ہو جائے، ریلوے والی کوشش پی آئی اے میں نہیں کی وہ نتائج جو ریلوے سے مل رہے ہیں خواہش ہے کہ پی آئی اے سے ملنے شروع ہو جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پائلٹس کی تنخواہوں پر 32 فیصد ٹیکس لگ گیا ہے، پائلٹس اگر تھوڑا سا کام زیادہ ہو جائے تو وہ کام نہ چھوڑیں، اس سے فلاٹس تاخیر کا شکار اور مسافر خوار ہوں گے، پائلٹ کوشش کریں کہ ان کی وجہ سے فلاٹس منسوخ نہ ہوں۔

’مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے‘

انہوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ پی آئی اے کی طرف واپس آ جائیں تو وقت کی پابندی کرنا ہو گی، ہم نے پوری کوشش کرنی ہے کہ اداروں کو کامیاب کرناہے اور ان کو گرنے سے بچانا ہے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ مردم شماری کے بعد انتخابات ہوں، اگر دو صوبوں میں الیکشن ہو جائیں تو ان دو صوبوں کی حکومتوں کے ہوتے ہوئے جنرل الیکشن کیسے شفاف ہو سکتے ہیں، الیکشن کرانا عدالت یافوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے تمام سیاستدانوں کو مل بیٹھنا ہو گا، عمران خان سے کیسے بات کریں وہ تو ہر وقت گیارہ ہزار واٹ کا کرنٹ مارتے ہیں، محمدنوازشریف لیڈر ہیں اور عمران خان گیدڑ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اداروں کو بچانے کیلئے ان کے ذرائع آمدن میں اضافہ کرنا ہو گا، پاکستان ریلوے وہ واحد ادارہ ہے جو کما کر ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن دیتا ہے، پاکستان ریلوے نے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، ریلوے اسٹیشنز اور دفاتر کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، ہدف ہے کہ جون تک ساڑھے پانچ ہزار میٹر بجلی کے لگ جائیں تاکہ بجلی چوری ختم ہو جائے۔

’ایک آدمی کے کہنے پر 2 اسمبلیاں توڑ ی گئیں، کسی نے وجہ نہیں بتائی،

انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کیلئے پچاس کروڑ روپے کے منصوبے بنائیں گے تاکہ نجی شعبہ اسٹیشنز و بلڈنگز اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز کو بجلی فراہم کریں اور منافع کمائیں، سبی اسٹیشن پر خطرہ کے باوجود مالی سال سے پہلے بحالی کا کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی آئی اے کی بہتری کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں، پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کرنا پڑے گی، جلد پی آئی اے کی پروازیں برطانیہ اور یورپ میں جانا شروع ہو جائیں گی۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک آدمی کے کہنے پر دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑ دی گئیں کسی نے کوئی وجہ نہیں بتائی، عمران خان فاشسٹ اور آئین شکن ہے، محمد نوازشریف کو انصاف کون دے گا، ان کے خلاف کرپشن کا ایک بھی کیس ثابت نہیں کیا جا سکا، الزام لگانے والوں نے کبھی قوم سے معافی نہیں مانگی.

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے، عمران خان کو کسی صورت فرار کا راستہ نہیں دیں گے، عمران خان نے توشہ خانہ پر جھاڑو پھیری، عمران خان کا نوازشریف سے کیا مقابلہ ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم نے جمہوریت کے لیے جیلیں کاٹیں اور سزائیں بھگتیں، رانا ثنا اللہ کے خلاف جھوٹا منشیات کا مقدمہ بنایا گیا، ہم ملک میں سزائیں بھگتنے اور جوتے کھانے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔

’مردم شماری کے بغیر انتخابات کیسے شفاف ہوں گے‘

انہوں نے کہا کہ چور چور کہہ کر اقامہ کو جواز بنا کر محمد نوازشریف کو اقتدار سے باہر کیا گیا ،اگر ہم کرپٹ تھے تو ہماری کسی منصوبے میں کرپشن ثابت نہیں ہوئی، صوبائی اسمبلی بچوں کا کھلونا نہیں کہ ایک شخص نے دو صوبوں کے مینڈیٹ سے کھلواڑ کیا، ملک کی تمام ترقی محمد نوازشریف کے دور میں ہوئی۔

انہوں نے کونسا جرم کیا جس کی انہیں سزا دی گئی، عمران خان کے وزیروں کو خواب آتے تھے کہ رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کو جیل میں ڈال دیا جائے،کیا ہماری زندگی کوکوئی خطرہ نہیں ہے، اس وقت ہم بھی عدالتوں میں پیش ہوتے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر ریلوے و ہوا بازی نے کہا کہ ریفارمز پارلیمینٹ کرے گی، یہ اسی وقت ہوں گی جب سیاسی جماعتیں ایک جگہ پر بیٹھ کر بات کریں گی، جب سیاستدان پارلیمینٹ پر حملے کریں گے تو حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی، ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کچھ غلطیاں کیں لیکن میثاق جمہوریت کے بعد ہم نے کوئی غلطی نہیں کی، عدالتوں سے فیصلوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا، فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات کروانا ضروری ہیں لیکن آئین میں یہ بھی ہے کہ انتخابات شفاف طریقے سے کروائے جائیں، مردم شماری کے بغیر انتخابات کیسے شفاف ہونگے، سپریم کورٹ کو ان ساری چیزوں کا جائزہ لینا چاہئے اگر مردم شماری کے بغیر دو اسمبلیوں میں الیکشن ہو جائیں اور باقی دو اسمبلیوں میں مردم شماری کے بعد الیکشن ہوں تو انتخابات کیسے شفاف ہو سکتے ہیں۔

’شہبازشریف نے حکومت چھوڑنے کی بات کی، اتحادیوں نے انکار کر دیا‘

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کی شکل پسند نہیں تب بھی راستہ بات چیت اور مل بیٹھ کر ہی نکلے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کی رائے تھی کہ حکومت چھوڑ کر انتخابات میں جانا چاہئے لیکن یہ حکومت صرف (ن) لیگ کی نہیں بلکہ اتحادیوں کی بھی ہے جس پر صرف ہمارا ہی اختیار نہیں کہ ہم انتخابات میں چلے جاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد شہبازشریف نے حکومت چھوڑنے کی بات کی تھی لیکن اتحادیوں نے انکار کر دیا، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے حکومت کرنے کا کٹھن فیصلہ کیا گیا، ملک کے سہولت کار بھی عمران خان کو اقتدار میں لا کر پچھتا رہے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں، سزاؤں کا حامی نہیں، ذاتی رائے ہے کہ اگر ہم سزاؤں میں گئے تو ملک مزید برباد ہو گا، راستہ بات چیت سے نکلتا ہے، جب تک غلیظ الزامات لگتے رہیں گے، بات چیت کا ماحول پیدا نہیں ہو گا، ماحول پہلے اسے بنانا ہو گا جو زیادتی کرتا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 16 جون 2024
کارٹون : 15 جون 2024