لاہور ہائیکورٹ: وفاقی حکومت سے توشہ خانہ کا 1947 سے 2001 تک کا مکمل ریکارڈ طلب

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2023
وفاقی حکومت نے سیکریٹری کابینہ ڈویژن کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی —فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ
وفاقی حکومت نے سیکریٹری کابینہ ڈویژن کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی —فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ تحائف کے ذرائع بتانے کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر وفاقی حکومت سے 1947 سے 2001 کا تک کا توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی 1990 سے 2001 کی توشہ خانہ کی تفصیلات اور تحائف دینے والے ممالک کا ریکارڈ پبلک کرنے کے سنگل بنچ کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے وفاقی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے وزارت پارلیمان اور وزارت داخلہ کو فریق نہیں بنایا جس پر وکیل نے کہا کہ میں میمو میں یہ فریق شامل کر دوں گا۔

وکیل وفاقی حکومت نے کہاکہ سنگل بینچ نے تحائف دینے والے ممالک کا ریکارڈ پبلک کرنے کا کہا ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے توشہ خانہ کے تحائف کا ریکارڈ پبلک کر دیا ہے، اگر تحائف دینے والے سورس کا بتاتے ہیں تو خارجہ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

جسٹس محمد رضا قریشی نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کی اپیل سے کیا ایسے نہیں لگتا کہ جو ہے وہ بھی لٹانے آ گئے ہیں، اب تو معاملہ اس سے آگے جانا ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ حکومت نے سب کچھ ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے صرف تحائف کے سورسز کی حد تک ریلیف مانگا جارہا ہے۔

جسٹس محمد رضا قریشی نے استفسارکیا کہ کیا تحائف لینے والے ڈکلیئر بھی کر رہے تھے کہ نہیں؟

جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ اگر ہمیں کوئی گفٹ دے تو ہم بھی تحائف ڈکلیئر کرنے کے پابند ہیں، ریاست کی نمائندگی کرنے والوں پر تحائف ڈکلیئر کرنا لازم ہے۔

وکیل وفاقی حکومت مرزا نصر نے کہا کہ 1990 سے 2001 تک کا ریکارڈ چھپانے کی کوشش نہیں کر رہے ۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے استفسار کیا کہ 1990 سے پہلے کا ریکارڈ کہاں ہے تو وکیل نے بتایا کہ 1990 سے پہلے کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ آپ کے پاس ہونا چاہیے آپ حکومت ہیں۔

وکیل وفاقی حکومت نے بتایا کہ ایک خاص خطے کے لوگ بہت مہنگے گفٹ دیتے ہیں، جب مہنگے گفٹ ملتے ہیں تو باتیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

جسٹس رضا قریشی نے دریافت کیا کہ ایک خاص خطے کے لوگ خاص لوگوں کو خاص گفٹ کیوں دیتے ہیں؟

وکیل وفاقی حکومت نے کہاکہ ہم صرف خارجہ پالیسی کی وجہ سے کہہ رہے ہیں کہ ملنے والے تحائف کے ذرائع پبلک نہ کیے جائیں۔

وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ حکومت پھنس رہی تھی اس لیے توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کیا گیا۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو بڑے بڑے پھنسیں گے عوام کی حکومت عوام کے لیے ہے۔

اظہر صدیق کی جانب سے ایک ملک کا نام لینے پر وفاقی حکومت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ جب نام سامنے آتا ہے تو باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ہم فریقین کو مکمل سن کر فیصلہ کریں گے۔

بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے 1947 سے 2001 کا تک کا توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا اور فریقین کو 17 اپریل کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیے۔

وفاقی حکومت کی اپیل

وفاقی حکومت نے 1990 سے 2001 کی توشہ خانہ تفصیلات اور تحائف دینے والے ممالک کا ریکارڈ پبلک کرنے کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل آج ہی دائر کی تھی۔

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سنگل بینچ نے 1990 سے 2001 تک توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تفصیلات پبلک کرنے کا حکم دیا تھا اور تحائف دینے والوں کے نام بھی پبلک کرنے کی ہدایت کی تھی۔

حکومت کا اپیل میں کہنا تھا کہ تحائف دینے والے ممالک کے نام پبلک کرنے کا سنگل بینچ کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں ہے۔

حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ جہاں تک 1990 سے 2001 تک کے ریکارڈ کا تعلق ہے تو یہ ریکارڈ مکمل نہیں ہے اور اس کی تصدیق یا توثیق بھی نہیں کی جا سکتی کیوں کہ اس مدت کی کوئی معاون فائلیں، ریکارڈ یا ثبوت دستیاب نہیں ہے۔

اپیل میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ریکارڈ کو ظاہر یا پیش کر سکے جس کی وہ تصدیق نہیں کرسکتی۔

حکومت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 19 اے اور شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کے لحاظ سے شہریوں کو معلومات حاصل کرنے کا حق لیکن حکومت کی جانب سے آنے والی معلومات سچی اور تصدیق شدہ ہونی چاہیے نہ کہ غیر تصدیق شدہ جس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

اپیل میں حکومت نے مزید کہا کہ سنگل بینچ نے غیر قانونی طور پر اس غیر تصدیق شدہ اور غیر مصدقہ معلومات کو ظاہر کرنے کا حکم دیا جسے کالعدم قرار دیا جائے۔

توشہ خانہ ریکارڈ

خیال رہے کہ 22 مارچ کو لاہور ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر حکومت کو 1990 سے 2001 تک توشہ خانہ کا ریکارڈ 7 روز میں پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ وفاقی حکومت 1990 سے مارچ 2023 تک تحائف دینے والوں کے نام بھی 7 روز میں پبلک کرے، صرف توشہ خانہ کی معلومات عوام کے ساتھ شئیر کرنے سے اس کے بین الاقوامی تعلقات خراب نہیں ہوں گے۔

عدالت عالیہ نے کہا کہ حکومت عدالتی حکم کی نقول ملنے کے سات روز کے اندر توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرے، عدالت نے حکم دیا کہ جس دوست ملک نے تحائف دیے ہیں وہ بھی بتائے جائیں اور کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکتی، سارا ریکارڈ پبلک کیا جائے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تحائف دینے والے کی شناخت کوئی اسٹیٹ سیکریٹ نہیں اور نہ ہی مقدس معلومات ہیں، اس کے لیے استثنی مانگنا نوآبادیاتی ذہنیت کے علاوہ کچھ نہیں۔

تاہم وفاقی حکومت نے عدالت کی جانب سے تحائف کے ذرائع بتانے کی ہدایت پر اعتراض کیا تھا اور وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا تھا کہ ہم اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

اس سے قبل فروری میں حکومت نے کابینہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کے فیصلے کا عدالت کو بتایا تھا جس کے بعد 2002 سے 2022 کے دوران توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کردیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں