تاجر برادری کو آئی ایم ایف کی ہدایات پر بنائے گئے بجٹ سے معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 14 مئ 2023
سائٹ کے سربراہ نے ڈان کو بتایا کہ تاجروں نے بھی بجٹ حکمت عملی کا کوئی فریم ورک نہیں دیکھا — فوٹو: اے پی پی
سائٹ کے سربراہ نے ڈان کو بتایا کہ تاجروں نے بھی بجٹ حکمت عملی کا کوئی فریم ورک نہیں دیکھا — فوٹو: اے پی پی

ماضی کی روایت کے برعکس وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے 9 جون کو پیش کیے جانے والے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے مشورے لینے کے لیے تجارت اور صنعت کی قیادت سے رابطہ نہیں کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اب کہ جب ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے کاروباری رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ڈی ایم حکومت نے انہیں بجٹ 24-2023 میں اپنی تجاویز کو شامل کرنے کے لیے کسی مشاورتی اجلاس کے لیے مدعو نہیں کیا۔

چنانچہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی جانب سے طے شدہ دستاویز ہوگی جس سے اقتصادی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر ریاض الدین نے ڈان کو بتایا کہ روایتی طور پر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اعلیٰ ایوانوں، تاجروں، صنعت کاروں وغیرہ کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کرکے بجٹ سازی کے عمل میں کاروباری برادری کو شامل کرتی تھیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ حکومتوں میں اسحٰق ڈار بجٹ کے اعلان سے پہلے اسے ’گرینڈ فائنل‘ قرار دے کر تجارتی اور صنعتی اداروں کے ساتھ دن بھر بات چیت کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ہمیں مدعو نہیں کیا گیا، ہمیں نہیں معلوم کہ بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنایا جائے گا یا حکومت آزادانہ طور پر یہ مشق کر رہی ہے۔

سائٹ کے سربراہ نے ڈان کو بتایا کہ تاجروں نے بھی بجٹ حکمت عملی کا کوئی فریم ورک نہیں دیکھا جو بجٹ کے اقدامات کے خاکے پر نظرثانی کے لیے حکومتوں نے تقریباً 4 ماہ قبل شیئر کیا تھا۔

ریاض الدین نے کہا کہ حکومت نے صرف فروری کے دوران کاروباری برادری سے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ اپنی پری بجٹ تجاویز بھیجیں، لیکن اسحٰق ڈار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سمیت ان کی ٹیم کے ساتھ اب تک کوئی روبرو بات چیت نہیں ہوئی۔

اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک تاجر برادری اور بالخصوص تاجروں کے اعلیٰ ادارے کے ساتھ مشاورتی عمل شروع نہیں کیا۔

تاہم انہوں نے وزیر خزانہ کو ایف پی سی سی آئی کا دورہ کرنے اور آنے والے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز کا جائزہ لینے اور ان کے مسائل، خدشات اور سفارشات سننے کے لیے تاجر رہنماؤں سے ملاقات کی دعوت دی۔

چیمبر حکومت کے ساتھ صنعتی، تجارت، جہاز رانی اور نقل و حمل، ٹیکسیشن، ایس ایم ای، زراعت، آئی ٹی، مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں پر اپنی تجاویز پیش کرنا اور ان پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سازی وہ موقع ہے جس میں ہم زمینی حقائق، علاقائی اور عالمی کاروباری ماحول اور قومی مفاد کی بنیاد پر بامعنی اصلاح کر سکتے ہیں۔

عرفان اقبال نے حیرت کا اظہار کیا کہ آئی ایم ایف نے زبردستی کا سہارا لیا اور بغیر کسی وجہ کے بیرونی فنڈنگ کی ضرورت کو 6 سے 8 ارب ڈالر تک بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی ہے اور عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی اقتصادی اور مالیاتی ٹیم کو اب واضح ہونا چاہیے کہ آئی ایم ایف پروگرام آئندہ بجٹ سے پہلے عملی جامہ پہننے والا نہیں ہے۔

انہوں نے مشاہدہ کیا کہ حکومت، آئی ایم ایف کے دوبارہ شروع ہونے والے پروگرام کی بنیاد پر اپنا بجٹ بنا رہی ہے لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اب اسے 3 ہفتوں کی مختصر مدت میں بجٹ میں بڑی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

عرفان اقبال نے کہا کہ پاکستان کو بحران سے نکالنے کا واحد حل چند بنیادی اصولوں کے ساتھ مقامی ہے، جس میں موجودہ ٹیکس دہندگان کو نچوڑنے اور کاروبار اور صنعت کو ہراساں کرنے کے بجائے ٹیکس بیس کو آسان اور وسیع کرنا اور پانچ برآمدی شعبوں (یعنی ٹیکسٹائل، آئی ٹی، چمڑے، کھیل اور سرجیکل سامان) کے بجلی اور گیس ٹیرف کو علاقائی طور پر مسابقتی توانائی ٹیرف (آر سی ای ٹی) میکانزم کے ذریعے مسابقتی بنانا ہے تاکہ ڈالر کی کمی کی وجہ سے برآمدات سے آمدنی کا انتظام کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا حکومت کو چاہیے کہ وہ بینکنگ چینلز اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ایکسچینج ریٹ کے فرق کو ختم اور سمندر پار پاکستانیوں کے اثاثوں کی حفاظت کرکے ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کرے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں