جنوبی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، اہلکار شہید

آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوجی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا—فوٹو:آئی ایس پی آر
آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوجی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا—فوٹو:آئی ایس پی آر

خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار شہید ہوگیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں پاک فوج کے جوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ فوجی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے 30 سالہ لانس نائیک محمد صابر نے جام شہادت نوش کیا۔

کارروائی کے حوالے سے کہا گیا کہ علاقے میں کسی دہشت گردی کی موجودگی کی صورت میں ان کے خاتمے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی اس طرح کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہوئے جب کہ 2 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ 3 جون کو بھی خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہوئے جبکہ دو دہشت گردی بھی مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 31 مئی کو خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے دوسلی میں دہشت گردوں کی موجودگی کے متعلق خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ مارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 24 مئی کو خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹ اعظم میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقہ کوٹ اعظم میں کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل 22 مئی کو خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران پاک فوج کے 2 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا جبکہ 3 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔

بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والوں میں پنجاب کے ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ نائیک محمد عتیق اور اٹک سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نائیک رجب علی شامل ہیں۔

اسی طرح 26 اپریل کو خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ 2 سپاہی شہید ہوگئے تھے۔

ضرور پڑھیں

بارسلونا کا سگرادا فیمیلیہ چرچ 170 برس سے زیر تعمیر کیوں ہے؟

بارسلونا کا سگرادا فیمیلیہ چرچ 170 برس سے زیر تعمیر کیوں ہے؟

اس چرچ کے دو بیرونی حصے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں، ان دونوں حصوں کی فنِ تعمیر گوڈی کی ذہانت واضح کرتی ہے۔ گزشتہ 170 سال سے زیرِتعمیر یہ شاہکار پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنے منفرد فنِ تعمیر کی وجہ سے حیرت میں مبتلا کرتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں