وفاقی حکومت نے 9 جون کو مالی سال 24-2023 کے لیے 145 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا تھا، جس میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے تھے، تاہم بعض ٹیکسز میں اضافے کا علان کیا گیا تھا۔

حکومت نے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کو ریلیف دینے کے لیے اسے ’اسمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز‘ (ایس ایم ایز) کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا، وہیں حکومت نے آئی ٹی سیکٹر پر نئے اور اضافی ٹیکس کا بھی اعلان نہیں کیا تھا۔

رواں مالی سال میں موبائل اور کمپیوٹر آلات سمیت انٹرنیٹ کے آلات پر کوئی نیا اور اضافی ٹیکس نہ لگائے جانے کے باعث امکان ہے کہ رواں سال ان کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے لیپ ٹاپس، پرسنل کمپیوٹرز (پی سیز) ملٹی میڈیا اسکرینز، نوٹ بکس، انٹرنیٹ راؤٹرز سمیت موبائل و کمپیوٹر آلات پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔

علاوہ ازیں حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود کمپیوٹر و موبائل آلات کے ٹیکسز میں اضافہ بھی نہیں کیا، تمام آلات پر نافذ پہلے ٹیکس کو ہی جاری رکھا ہے، جس وجہ سے امکان ہے کہ ان کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی۔

علاوہ ازیں بجٹ دستاویزات کے مطابق اسمبل کیے گئے موبائل و کمپیوٹر آلات پر بھی کوئی نیا اور اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ساتھ ہی اسمارٹ موبائل فونز کی امپورٹ پر بھی کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

موبائل و کمپیوٹر آلات کی امپورٹ پر پہلے سے نافذ ٹیکس کو برقرار رکھا ہے، علاوہ ازیں آئی ٹی کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے اسے اسمارٹ میڈیم بزنس کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ اس شعبے کو ٹیکس میں مزید آسانی ہو۔

بجٹ میں کمپیوٹر و موبائل آلات پر نئے اور اضافی ٹیکسز نہ لگائے جانے سے اگرچہ ان کی قیمتیں نہ بڑھنے کا امکان ہے، تاہم ڈالرز کے ریٹ میں دن بہ دن ہونے والے اضافے کی وجہ سے صارفین آلات کو بھاری قیمت پر خریدنے پر مجبور رہیں گے۔

گزشتہ روز بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے حکومتی عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ٹی کے شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کو 20 فیصد رعایتی ٹیکس کا استفادہ بھی ہوگا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ آئی ٹی اینڈ آئی ٹی ان ایبل سروسز فرمز اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر بغیر ٹیکس کے درآمد کرسکیں گے، ان درآمدات کی حد 50 ہزار ڈالر سالانہ مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگلے مالی سال میں ملک بھر میں 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں