• KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:04pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:10pm
  • KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:04pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:10pm

حریم شاہ نازیبا ویڈیو لیک کیس: ٹک ٹاکر صندل خٹک گرفتار

— فوٹو: انسٹاگرام
— فوٹو: انسٹاگرام

حریم شاہ کی نازیبا ویڈیوز لیک کے کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد نے ٹک ٹاک اسٹار صندل خٹک کو گرفتار کرلیا۔

اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد نے ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کی نازیبا ویڈیوز لیک کی سماعت کی، سماعت کے دوران مدعی حریم شاہ اور ملزمہ صندل خٹک اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت مں پیش ہوئیں۔

دوران سماعت ملزمہ صندل خٹک نے کہا کہ حریم شاہ کی ویڈیوز ابھی لیک ہوئی ہیں، وہ مجھے کئی سال سے تنگ کر رہی ہے، حریم شاہ مجھے نازیبا تصاویر کے ذریعے بلیک میل کر رہی ہے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ میں نے نہ حریم شاہ کی ویڈیو بنائی نہ لیک کیں، مجھ پر الزام لگایا جارہا ہے۔

جس کے بعد سماعت کے دوران ٹک ٹاکر حریم شاہ نے شواہد پیش کرتے ہوئے وڈیوز اور تصاویر کمرہ عدالت میں دکھا دیں۔

جس پر پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ ٹک ٹاک پر کشمیر کی آزادی کے لیے ویڈیوز نہیں ڈالی جاتیں، ٹک ٹاکرز جو ویڈیوز بناتے ہیں، سب کو معلوم ہے۔

اسپیشل جج سینٹرل اعظم خان نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ صندل خٹک کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

درخواست مسترد ہونے کے بعد ایف آئی اے نے صندل خٹک کو گرفتار کرلیا۔

صندل خٹک کی گرفتاری کے بعد حریم شاہ نے ٹوئٹ کیا کہ ’کل جو مجھے گرفتار کروانے عدالت پہنچی تھی آج خود اسی عدالت سے گرفتار ہوگئی‘۔

یاد رہے کہ حریم شاہ کی متعدد ویڈیوز رواں سال 27 فروری کے بعد انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھیں، جن میں انہیں بیڈ روم اور واش روم میں قابل اعتراض حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد حریم شاہ کا نام ٹوئٹر پر 28 فروری اور یکم مارچ کو ٹاپ ٹرینڈ بھی رہا اور لوگ ٹرینڈ میں ان کی جعلی اور پرانی ویڈیوز بھی شیئر کرتے دکھائی دیے۔

ویڈیوز کے حوالے سے یکم مارچ کو ہی انہوں نے اپنی ایک مختصر ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ذاتی ویڈیوز کو ان کی دوستوں ٹک ٹاکرز صندل خٹک اور عائشہ نے وائرل کیا۔

حریم کے الزامات کے بعد صندل خٹک نے بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے حریم شاہ کی ویڈیوز لیک نہیں کیں اور ان کے پاس ان کی ویڈیوز تھی ہی نہیں۔

کارٹون

کارٹون : 21 جون 2024
کارٹون : 20 جون 2024