ایک حالیہ اور منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے لیے ’ان وائٹرو فرٹیلیٹی (آئی وی ایف) کے عمل سے گزرنے والی بعض خواتین کے ہاں چند سال بعد قدرتی طور پر حمل ٹھہر جاتا ہے۔

آئی وی ایف کے علاج کے ذریعے بانجھ پن کے مسائل سے دوچار خواتین کے انڈوں اور مرد حضرات کے اسپرم کو ادویات کے ذریعے ملایا جاتا ہے۔

اس وقت آئی وی ایف کا علاج پاکستان سمیت دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں موجود ہے، اس کے ساتھ ہی حمل ٹھہرانے اور بچوں کی پیدائش میں مددگار دوسرے طریقہ علاج بھی کیے جاتے ہیں۔

عام طور پر آئی وی ایف یا بچوں کی پیدائش میں مدد دینے والے دوسرے طریقہ علاج کافی مہنگے ہوتے ہیں اور بعض ممالک میں انہیں معیوب بھی سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں بھی حالیہ چند سال میں آئی وی ایف کے طریقہ علاج کروانے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

آئی وی ایف کے ذریعے بچوں کی پیدائش کے بعد خواتین کی زرخیزی سے متعلق ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ آئی وی ایف کے عمل سے گزرنے والی خواتین میں چند سال بعد قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

برطانیہ کی آکسفورڈ اکیڈمی کے جریدے ’ہیومن ری پروڈکٹشن‘ میں شائع ایک حالیہ تحقیق کے مطابق آئی وی ایف کے حمل سے گزرنے والی ہر پانچ میں سے ایک خاتون میں قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین نے تحقیق کے لیے 11 مختلف تحقیقات کا مطالعہ کیا اور مجموعی طور پر انہوں نے 5 ہزار سے زائد ایسی خواتین کے کیسز کا جائزہ لیا، جنہوں نے آئی وی ایف سمیت دیگر طریقہ علاج کروائے تھے۔

ماہرین نے جاننے کی کوشش کی کہ بچوں کی پیدائش کے لیے مصنوعی طریقوں سے مدد حاصل کرنے والی خواتین کی تولیدی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

ماہرین نے آئی وی ایف سمیت دیگر علاج کروانے والی خواتین کی تولیدی صحت کا 3 اور 15 سال بعد کا جائزہ لیا، جس سے انکشاف ہوا کہ متعدد خواتین قدرتی طور پر حاملہ ہوگئی تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ آئی وی ایف کے ذریعے ایک بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کی تولیدی صحت میں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین نے بتایا کہ آئی وی ایف یا دیگر طریقوں کی مدد سے پہلے بچے کی پیدائش کے تین سال بعد خواتین کی تولیدی صحت بہتر ہوئی اور ہر پانچ میں سے ایک خاتون کے ہاں قدرتی طور پر حمل ٹھہرا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر آئی وی ایف یا دیگر علاج کے طریقوں سے مرد اور خواتین کی تولیدی صحت مجموعی طور پر بہتر ہوتی ہو، جس وجہ سے ہی ان کے ہاں قدرتی طور پر حمل ٹھہرے۔

ماہرین کے مطابق عام طور پر بانجھ پن کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے، جب شادی شدہ جوڑے ایک سال کی کوششوں کے باوجود حمل ٹھہرانے میں ناکام ہو رہے ہوں۔

لیکن آئی وی ایف کے عمل سے گزرنے اور بچے کی پیدائش کے تین سال بعد ایسے جوڑوں میں چند ماہ کی کوششوں سے ہی حمل ٹھہرنے کو نوٹ کیا گیا۔

ماہرین نے مذکورہ معاملے پر مزید تحقیق کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی وی ایف سمیت اسی طرح کے دیگر طریقہ علاج مجموعی طور پر تولیدی صحت کو بہتر بنانے میں مدگار ہوسکتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں