وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی شرکت سے متعلق غور کرنے کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ احسان الرحمٰن مزاری نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرکت کے بارے میں غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ احسان الرحمٰن مزاری نے کہا کہ مجھے کل رات کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں خط موصول ہوا اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اس کمیٹی کے کوآرڈینیٹر تعینات ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کے دورہ بھارت کے حوالے سے کمیٹی کے ارکان سفارشات پیش کریں گے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایسی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پاکستانی ٹیم 5 اکتوبر سے 19 نومبر تک ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے بھارت جائے گی یا نہیں۔

فی الحال وزارت خارجہ ٹیم کو بھارت جانے کے لیے گرین سگنل ملنے سے قبل حکومت کے متعلقہ محکموں کے ساتھ ایک معمول کے عمل کے حصے کے طور پر پوری تندہی سے کام کر رہی ہے۔

اس صورت حال کا مطلب ہے کہ کھلاڑیوں کو تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کہ وہ ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے بھارت جائیں گے یا نہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ اگر وہ بھارت جائیں بھی تو کس شہر میں میچ کھیلا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے باضابطہ طور پر حکومت سے رابطہ کیا تھا کہ بھارت میں ہونے والے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے قومی ٹیم کو کلیئرنس دی جائے۔

بورڈ نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ آئی سی سی کی طرف سے شیڈول جاری ہونے کے بعد اس نے پیٹرن ان چیف شہباز شریف اور دو متعلقہ محکموں کو اس حوالے سے لکھا تھا۔

شیڈول کے مطابق پاکستان ورلڈ کپ میں شیڈول اپنے 5 میچز احمد آباد، حیدرآباد، چنائی، بنگلور اور کولکتہ میں کھیلے گا، پی سی بی نے ان مقامات پر میچز کھیلنے کے حوالے سے متعدد پہلوؤں پر حکومت سے تجاویز طلب کی ہیں۔

بابر اعظم کی قیادت میں جانے والا یونٹ ممبئی میں بھی میچ نہیں کھیلے گا اور آئی سی سی کی طرف سے پی سی بی کا مطالبہ تسلیم ہونے کے بعد قومی ٹیم کولکتہ میں میچ کھیلے گی۔

خیال رہے کہ ورلڈ کپ کے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد ایشیا کپ کی میزبانی پر تنازع ہوگیا تھا جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

بھارت نے اگست اور ستمبر میں ہونے والے ایشیا کپ میں شرکت کے لیے پاکستان آنے سے انکار کیا ہے جبکہ پاکستان نے ایشیا کپ کے کچھ میچز ہوم گراؤنڈ پر کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی۔

یہ تنازع بالآخر گزشتہ ماہ اس وقت حل ہوا جب ایشین کرکٹ کونسل(اے سی سی) نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچوں کی تقسیم کے ساتھ پاکستان کے ہائبرڈ ماڈل کو تسلیم کیا۔

ہائبرڈ ماڈل کے تحت اب بھارت ایشیا کپ سری لنکا میں کھیلے گا۔

ادھر سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی جگہ لینے والے پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے نگران چیئرمین ذکا اشرف نے کہا کہ وہ اپنے پیشرو کی طرف سے متفقہ ہائبرڈ ماڈل کا احترام کریں گے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ ٹیم کو ورلڈ کپ میں بھیجنے کا فیصلہ مناسب مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

اس سے قبل انہوں نے ہائبرڈ ماڈل کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پی سی بی چیئرمین ہونے کے بعد وہ اس کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں