اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 900 پوائنٹس کا اضافہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں 903.76 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں ماہرین اس کی وجہ نگران حکومت کی تقرری کے حوالے سے وضاحت کو قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک 100 انڈیکس 903.76 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 48 ہزار 333 سے زائد پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔
گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ فلور پر دوبارہ اضافہ نمایاں ہوا جس میں پیر کو ہونے والے زیادہ تر نقصانان کا ازالہ کیا جہاں ماہرین نے اس پیش رفت کی وجہ دیگر وجوہات کے ساتھ نگران حکومت کی تقرری کے حوالے سے بہتر وضاحت کو قرار دیا ہے۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 903.76 پوائنٹس یا 1.91 فیصد اضافے کے ساتھ 48 ہزار 333.58 فیصد پر بند ہوا جو کہ تجارتی سیشن کے دوران انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح ہے۔
ایک دن قبل مارکیٹ میں نمایاں فروخت ہوئی کیونکہ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 956 پوائنٹس کی کمی سے 1.98 فیصد کے برابر تھا اور بالآخر مختلف عوامل کی وجہ سے 47 ہزار 429.89 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کے مطابق گزشتہ روز مارکیٹ کا ردعمل وفاقی کابینہ کی جانب سے ریفائنری پالیسی کی ممکنہ منظوری کے ساتھ ساتھ نئے نگراں سیٹ اپ کے بارے میں مزید وضاحت کرنے کی نشاندہی کرنے والی رپورٹس کے باعث شروع ہوا۔
محمد سہیل نے کہا کہ ان رپورٹس کے جواب میں، مارکیٹ نے نقصانات کی تلافی کرتے ہوئے مثبت ردعمل کا مظاہرہ کیا اور مارکیٹ میں موجودہ رفتار اور رجحانات مزید ترقی کے لیے سازگار دکھائی دیتے ہیں۔
عارف حبیب کموڈٹیز کے سی ای او احسن محنتی نے کہا کہ اسٹاک تیزی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس کی وجہ نگران وزیراعظم کی تقرری اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے گردشی قرضوں کے انتظام کے منصوبے کی منظوری سے متعلق رپورٹس کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے کارپوریٹ منافع جاری کرنا شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جولائی 2023 کے لیے سازگار تجارتی خسارے کی عکاسی کرنے والے مثبت معاشی اعداد و شمار سے بڑھ کر روپے کی بحالی نے تیزی کے بند ہونے کے رجحان کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز میں ریسرچ کے سربراہ رضا جعفری نے کہا کہ کے ایس 100 گزشتہ روز ہونے والے تقریباً تمام نقصانات کو پورا کرنے میں کامیاب رہا۔
انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے کی منظوری کے بارے میں نئی امید پر مبنی سرکاری تیل کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کے حصص خریدنے میں اضافہ ہوا ہے۔
علاوہ ازیں رضا جعفری نے پاور سیکٹر کے اسٹاک میں خریداری کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافے کا بھی ذکر کیا۔












لائیو ٹی وی