بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا، شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے، حکام

اپ ڈیٹ 19 اگست 2023
سیلاب کے پیش نظر شہریوں کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے—فوٹو: علی وقار
سیلاب کے پیش نظر شہریوں کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے—فوٹو: علی وقار

بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں پنجاب میں گنڈا سنگھ اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کئی گاؤں خالی کرکے شہریوں کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے الرٹ جاری کیا کہ دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، سلیمانکی میں دریائے ستلج میں 19 اگست کو صبح 6 بجے سے اور اسلام کے مقام پر دریائے ستلج میں 21 اگست سے اونچے درجے کا سیلاب کا امکان ہے۔

پنجاب پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی گئی کہ دریائے ستلج پر جی ایس والا، سلیمانکی اور اسلام کے نشیبی علاقوں کی آبادی کو بروقت انتباہ اور خطرے سے دوچار افراد کا انخلا یقینی بنائیں۔

مزید کہا گیا کہ حساس علاقوں کی جانب ٹریفک کی منظم نگرانی کی جائے، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مشینری تیار رکھیں، نشیبی علاقوں سے نمٹنے کے لیے مشینری تیار رکھیں، نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر لوگ کی نقل مکانی کے لیے انتظامات کیے جائیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے بارے میں پاکستانی حکام کو آگاہ کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کی سطح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث بستی سفلیاں والی، مستے کی، گاٹی کیلنجر گاﺅں کو مکمل طور پر خالی کروا لیا گیا ہے، چندا سنگھ، ڈوناموبو کی، بھکی ونڈ، کمال پور، دھوپ سڑی گاﺅں جزوی خالی کروائے گئے ہیں۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے 26 کشتیاں فراہم کی جاچکی ہیں، 5 ڈمپرز، 5 ٹرالی ٹریکٹرز بھی سیلاب سے متاثرہ دیہات میں پہنچا دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے بھرپور تعاون کیا جا رہا ہے، اسی طرح تلوار چیک پوسٹ پر موبائل ہسپتال قائم کر دیا گیا ہے اور موبائل ہیلتھ ٹیموں کے ذریعے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کا عملہ 24 گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے، سیکیورٹی کے لیے ایس ایچ اور 20 کانسٹیبل خصوصی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ محکمہ انہار کا عملہ، ایس ڈی او اور بیلدار بھی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، تمام متعلقہ ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ ہیں، پکے ہوئے کھانے کے 2 ہزار بکس متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کر دیے گئے ہیں اور مویشیوں کے لیے ونڈا بھی حسب ضرورت تقسیم کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سیلابی پانی سے بچاﺅ کے لیے ہر تدبیر اختیار کی جائے گی، پانی کے راستے سے تجاوزات ہٹانے کے لیے انتظامیہ متحرک ہے۔

پی ڈی ایم اے نے بیان میں کہا کہ دریاﺅں اور ندی نالوں میں نہانے پر پابندی ہے اور انتظامیہ دفعہ 144کا سختی سے نفاذ کرے اور شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت حال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

خیال رہے کہ بھارت نے گزشتہ ماہ بھی راوی سمیت مختلف دریاؤں پر پانی چھوڑ دیا تھا جس کے بعد پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی تھی اور نقصانات بھی ہوئے تھے۔

حکام نے کہا تھا بھارت کی شمالی ریاستوں میں ہونے والی مسلسل بارش نے پانی کے اخراج میں اضافہ کر دیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان حرمت علی نے بتایا تھا کہ دریائے راوی کی دوسری جانب کھیتوں میں 5 خواتین سمیت 36 افراد کام کر رہے تھے کہ انہوں نے پانی کی سطح کو بڑھتے دیکھا تاہم ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کی اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

پنجاب میں گزشتہ ماہ بارش اور سیلاب سے کئی افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور بڑی تعداد میں مویشی، فصلیں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں