معروف اور سینئر اداکار نبیل ظفر نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں ایک بار جب فوٹوشوٹ کے لیے وہ عورت بنے تو انہیں دیکھ کر آس پاس موٹرسائیکل سوار لڑکے جمع ہوگئے۔

نبیل ظفر نے کچھ عرصہ قبل ایاز سموں کے پروگرام ’دی نائٹ شو‘ میں شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہوں اپنا اصلی نام کیوں تبدیل کیا؟

پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا اصل نام ندیم ظفر ہے اور جب ان کی پہلی فلم ریلیز ہوئی تو وہ برے طریقے سے فلاپ ہوگئی، جس پر انہیں نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اداکار ندیم سپر اسٹار تھے اور یقیناً اب بھی وہ فلم انڈسٹری کا بڑا نام ہیں، اس لیے انہیں مشورہ دیا گیا کہ کنفیوژن ختم کرنے کے لیے اپنا نام تبدیل کریں۔

اداکار نے بتایا کہ انہیں ہدایت کار ایوب خاور نے بھی نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا، جس پر انہوں نے اپنا نام ندیم سے نبیل ظفر کردیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کے پہلے تینوں ڈرامے، دن، دھوپ کنارے اور دھواں انتہائی کامیاب گئے اور ان کی شہرت آسمان کی بلندیوں تک پہنچ گئی۔

ماضی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب دھواں ڈراما کامیاب ہوا تو وہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک اسٹوڈیو نما گھر میں رہتے تھے، جہاں ان کے ہمراہ کامیڈین نسیم وکی بھی رہتے تھے۔

ان کے مطابق ڈرامے کی کامیابی کے بعد ملک بھر کے لوگ انہیں فون کرتے تو ان کے لیے آنے والا فون نسیم وکی اٹھاتے اور وہ لوگوں سے کہتے کہ وہ بھی وہی کام کرتے ہیں جو نبیل ظفر کرتے ہیں۔

پروگرام کے ایک سیگمنٹ میں انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ’بلبلے‘ کے اداکاروں کو بہترین اداکار کا ایوارڈ دینے کا موقع ملے تو وہ پہلا ایوارڈ حنا دلپذیر، دوسرا محمود اسلم جب کہ تیسرا عائشہ عمر اور خود کو دیں گے۔

نبیل ظفر کے مطابق انہیں ایسا لگتا ہے کہ ’بلبلے‘ میں حنا دلپذیر کا کردار ’مومو‘ ان کے لیے ہی لکھا گیا تھا اور ان کے بجائے کوئی دوسرا وہ کردار نہیں کر سکتا۔

کیریئر کے آغاز کی بات کرتے ہوئے اداکار نے بتایا کہ جب 1993 میں ان کا ڈراما ’دن‘ نشر ہو رہا تھا تب انہیں ایک دوست نے کہا کہ فوٹوشوٹ کرتے ہیں اور انہیں میک اپ کرکے عورت بنایا گیا۔

اداکار کے مطابق جب انہیں عورت کے روپ میں ڈھال دیا گیا تو انہوں نے نوٹ کیا کہ بہت سارے لوگ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

نبیل ظفر کا کہنا تھا کہ بعد ازاں وہ عورت کے روپ میں ہی کار ڈرائیونگ کرکے دوسری جگہ پہنچے اور ڈرائیونگ کے دوران انہوں نے راہ چلتے کچھ پوز دیے تو ان کے آگے پیچھے موٹر سائیکل سوار لڑکے جمع ہوگئے۔

اداکار کے مطابق موٹر سائیکل سوار لڑکے مسلسل ان کے آگے پیچھے چلتے رہے اور بعد ازاں وہ ایک اخباری دفتر پہنچے، جہاں انہیں فوٹوگرافر دوست نے اخبار کی نئی ایڈیٹر کے طور پر متعارف کروایا اور سب لوگ انہیں خاتون سمجھ کر مزہ لیتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں بات چیت کے دوران ان کی ہنسی چھوٹ گئی لیکن اس کے باوجود اخبار کے دفتر میں موجود افراد نہیں سمجھ پائے اور پھر انہیں سب کو بتانا پڑا کہ وہ عورت نہیں بلکہ نبیل ہیں، لیکن اس کے باوجود کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

اداکار کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہوں نے واضح طور پر سب کو بتایا کہ وہ ڈراما اداکار نبیل ظفر ہیں، جس پر سب کو ہنسی آگئی۔

تبصرے (0) بند ہیں