دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار

اپ ڈیٹ 27 اگست 2023
ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا دریائے چناب، راوی اور جہلم میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے — فوٹو: اے ایف پی
ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا دریائے چناب، راوی اور جہلم میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے — فوٹو: اے ایف پی

پنجاب کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں مختلف علاقوں سے 970 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کی سطح کمی ہو رہی ہے جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔

انہوں نے کہا کہ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 22 ہزار کیوسک ہے جبکہ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 2 ہزار کیوسک اور اخراج 89 ہزار کیوسک ہے اور دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دریائے چناب، راوی اور جہلم میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے اور دریاؤں، براجز، ڈیمز اور نالہ جات میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہری دریاؤں، ندی نالوں میں نہانے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔

ترجمان نے کہا کہ دریائے ستلج میں طغیانی کم ہونے لگی ہے، پی ڈی ایم اے کی صورتحال کی کڑی نگرانی جاری ہے اور متاثرہ اضلاع میں بھرپور ریلیف اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 روز میں 100 سے زائد دیہاتوں میں سیلابی صورتحال میں بہتری رپورٹ ہوئی۔

ترجمان نے کہا کہ 23 سے 26 اگست کے دوران متاثرہ اضلاع میں بھرپور ریلیف اقدامات اٹھائے گئے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ بہاولنگر، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، لودھراں، وہاڑی اور بہاولپور میں 970 افراد کو ریسکیو کیا گیا اور مذکورہ اضلاع میں قائم میڈیکل کیمپوں سے 32 ہزار لوگوں نے استفادہ کیا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 175 ریلیف کیمپس لوگوں کی امداد میں پیش پیش رہے اور سیلاب سے متاثرہ 300 خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ مذکورہ اضلاع میں 21 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق 480 دیہات متاثر ہیں جو کہ گزشتہ ہفتے سے کہیں کم ہیں.

معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں، ریلیف کمشنر پنجاب

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا ہے کہ معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں، نقل مکانی کرنے والوں کی جلد واپسی ہوگی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اولین ترجیح ہے، انتظامی افسران ہمہ وقت فیلڈ میں موجود رہیں اور کوتاہی یا غیر ذمہ داری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

سیلابی علاقہ جات میں ریسکیو 1122 کی خصوصی ٹیمیں متعین ہیں، ترجمان

ترجمان ریسکیو 1122 فاروق احمد کے مطابق سیلابی علاقہ جات میں ریسکیو 1122 کی 425 ریسکیو بوٹ، 1660 ریسکیور ایمرجنسی سروسز فراہم کر رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6 ہزار 725 افراد کا انخلا، 937 افراد کی ٹرانسپورٹیشن اور ایک ہزار 21 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ قصور میں ایک ہزار 562 افراد کا انخلا اور 288 افراد کی ٹرانسپورٹیشن اور 25 جانوروں کو منتقل کیا گیا، اوکاڑہ میں 93 لوگوں کا انخلا اور 402 افراد کی ٹرانسپورٹیشن کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکپتن میں ایک ہزار 460 لوگوں کا محفوظ انخلا اور 24 جانوروں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا گیا ہے، اسی طرح بہاولنگر میں 607 افراد کا انخلا، 159 کی ٹرانسپورٹیشن اور 76 جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

فاروق احمد نے مزید کہا کہ وہاڑی میں ایک ہزار 840 افراد کا محفوظ انخلا اور 211 جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، سیلابی علاقہ جات میں ریسکیو 1122 کی خصوصی ٹیمیں متعین ہیں اور قریبی اضلاع بیک اَپ کے لیے تیار ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں