ماضی کی مقبول اداکارہ و فلم ساز سنگیتا نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بڑی صاحبزادی کی شادی انتہائی کم عمری میں 14 سال کی عمر میں کردی تھی اور وہ 15 سال کی عمر میں پہلے بچے کی ماں بنی تھیں۔

سنگیتا حال ہی میں ندا یاسر کے مارننگ شو میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے شوبز سمیت ذاتی زندگی پر بھی کھل کر باتیں کیں۔

انہوں نے بتایا کہ بطور اداکارہ ان کی پہلی کامیاب فلم ’امن‘ تھی، جس میں انہوں نے ایک ہندو لڑکی کا کردار ادا کیا تھا اور اس سے قبل وہ تین فلموں میں کام کر چکی تھیں۔

سنگیتا نے بتایا کہ اداکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوری طور پر ہدایت کاری بھی شروع کردی تھی اور انہوں نے پہلی فلم کی ہدایات 18 سال کی عمر میں دیں۔

انہوں نے بتایا کہ بطور ہدایت کارہ انہوں نے پہلی فلم 18 سال کی عمر میں ریلیز کی، جس میں انہوں نے غلام محی الدین کو بطور ہیرو کاسٹ کیا لیکن شوٹنگ کے دوران انہیں ’بیٹا‘ کہتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ فلم کی ریلیز کے 10 سال بعد غلام محی الدین نے ان سے شکوہ کیا کہ وہ ان پر فدا تھے لیکن وہ انہیں بیٹا کہتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سنگیتا نے کہا کہ انہوں نے بطور ہدایت کار مجموعی طور پر 80 فلمیں ریلیز کیں، جس میں سے متعدد فلموں میں انہوں نے خود بھی اداکاری کی۔

انہوں نے بتایا کہ بعض مرتبہ انہوں نے ایک ہی سال میں پانچ، پانچ فلمیں بھی بنائیں اور ان میں سے زیادہ تر کامیاب بھی گئیں۔

ایوارڈز کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں پہلا ایوارڈ ’امن‘ فلم کی کامیابی پر ملا اور اس وقت وہ بہت کم عمر تھیں، ایوارڈ کے لیے جاتے وقت وہ کانپ رہی تھیں۔

سنگیتا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایوارڈز کو سنبھال کر نہیں رکھا، انہیں اتنے ایوارڈز ملے کہ انہیں سنبھال کر رکھنے کی فرصت ہی نہیں۔

پروگرام کے دوران انہوں نے کم عمری کی شادی کے فوائد بھی بتائے اور کہا کہ ان کا خیال ہے کہ شادی 25 سال کی عمر سے پہلے ہی کر لینی چاہیے، اس کے بعد جوڑوں کی آپس میں نہیں بنتی۔

اسی دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی بڑی صاحبزادی کی شادی محض 14 سال کی عمر میں کرادی تھی اور وہ 15 سال کی عمر میں پہلے بچے کی ماں بن گئی تھیں۔

سنگیتا نے مزید کہا کہ اسی طرح انہوں نے دوسری بیٹی کی شادی بھی 16 سال کی عمر سے پہلے ہی کرادی تھی اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی نواسیوں کی شادیاں بھی کم عمری میں کرا دیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا کم عمری میں بچوں کی شادیاں کرانے کا تجربہ بہت اچھا رہا اور وہ جلد شادیوں کے حق میں ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں