پنجاب میں آنکھوں کے انفیکشن ’پنک آئی‘ یعنی آشوب چشم کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال آشوب چشم کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

ماہرین صحت نے اس بیماری سے متاثرہ افراد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متاثرہ افراد دیگر لوگوں سے الگ تھلگ رہیں۔

پنجاب کے محکمہ صحت کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق صوبے میں آئی انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ستمبر کے اوائل میں یہ انفیکشن پہلی بار کراچی میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد آشوب چشم پورے شہر میں پھیل گیا تھا، سرکاری ہسپتالوں سے لے کر نجی ہسپتالوں تک یومیہ درجنوں مریض آ رہے ہیں۔

تاہم گزشتہ 5 روز کے دوران کراچی کے بعد اب پنجاب میں بھی یہ انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پنجاب حکومت نے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو جمعرات (28 ستمبر) سے اتوار (یکم اکتوبر) تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، تاہم آج تمام اسکولز کھول دیے گئے ہیں۔

پنجاب کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 24 گھنٹے کے دوران صوبے بھر سے 9 ہزار 401 مریض رپورٹ ہوئے جبکہ سب سے زیادہ مریض بہاولپور سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق بہاولپور میں ایک ہزار 577، فیصل آباد میں ایک ہزار 507، ملتان میں 761 مریض زیر علاج ہیں۔

اس کے علاوہ چنیوٹ میں 400 کیسز اور لاہور اور لودھراں سے 357 اور شیخوپورہ میں 340 مریض رپورٹ ہوئے۔

محکمہ صحت کے مطابق پنجاب میں ستمبر کے مہینے میں اب تک ایک لاکھ 6 ہزار 330 افراد آشوب چشم کا شکار ہوئے ہیں جبکہ رواں سال 3 لاکھ 96 ہزار 929 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

آشوب چشم کیا ہے؟

’آشوب چشم‘ کو انگریزی میں (conjunctivitis) کہا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کا عام وائرل انفیکشن ہوتا ہے اور اس میں آنکھیں گلابی یا سرخ ہوجاتی ہیں اور متاثرہ شخص کی آنکھوں میں خارش رہتی ہے۔

علامات کیا ہیں؟

آشوب چشم کی علامات میں آنکھوں میں سرخی، جلن، خارش، چبھن، سوزش اور متاثرہ آنکھ سے پانی نکنا شامل ہیں۔

اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی علامت کا سامنا ہو تو آنکھوں کو رگڑنے سے گریز کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ انفیکشن پھیلنے کا کم سے کم خطرہ ہو۔

اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

آشوب چشم پھیلنے کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وائرس میں مبتلا افراد ٹوٹکوں اور دیگر طریقوں کے ذریعے آنکھوں کی تکلیف کم کرنے کی کوشش نہ کریں اور صفائی کا خصوصی خیال رکھیں۔

ماہرین نے تجویز دی کہ آنکھوں کے وائرس سے بچنے کے لیے ہر کوئی صاف کپڑے یا ٹشو پیپر سے آنکھوں کو صاف کرے اور خارش ہونے پر بھی ہر بار نیا ٹشو استعمال کرے۔

ماہرین کے مطابق اب تک کے سامنے آنے والے کیسز میں مریض 10 سے 15 دن کے اندر ٹھیک ہو جاتے ہیں اور انہیں اتنی زیادہ ادویات بھی نہیں دینی پڑتیں اور اب تک پھیلنے والے وائرس کے سنگین نقصانات سامنے نہیں آئے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں