سیالکوٹ فائرنگ واقعے میں ’دشمن انٹیلی جنس ایجنسی‘ ملوث تھی، آئی جی پنجاب

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2023
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ مجرموں کی شناخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اتحاد اور باہمی تعاون سے ممکن ہوئی —فوٹو: ڈان نیوز
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ مجرموں کی شناخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اتحاد اور باہمی تعاون سے ممکن ہوئی —فوٹو: ڈان نیوز

انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ رواں ہفتے کے شروع میں سیالکوٹ کی مسجد میں فائرنگ کرکے 3 افراد کو قتل کرنے میں بدمعاش قوم کی دشمن انٹیلی جنس ایجنسی ملوث ہے۔

11 اکتوبر کو نماز فجر کے دوران ڈسکہ کی مسجد میں ہونے والے ٹارگٹڈ حملے میں ایک نمازی، کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والا مذہبی کارکن اور اس کا سیکیورٹی گارڈ مارا گیا تھا۔

آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے حملے کے پیچھے حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے بدمعاش اور بغیر قوم کی جانب سے کیے گئے اور ان کی منصوبہ بندی پاکستان سے باہر کی گئی، آئی جی پنجاب نے اس مبینہ بدمعاش قوم کا نام نہیں بتایا۔

انہوں نے کہا کہ مجرموں کی شناخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اتحاد اور باہمی تعاون سے ممکن ہوئی، ان کارروائیوں میں ملوث زیادہ تر مجرموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ریاست پاکستان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے بدمعاش قوم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے گی۔

ڈاکٹر عثمان انور نے ریاست پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے والوں کو ’چوہا‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اب وہ تیار رہیں کیونکہ ہم ان کے بدبودار اور گندے اعمال کو دفتر خارجہ اور دیگر اداروں کے ذریعے بے نقاب کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور ملٹری انٹیلی جنس (آئی ایم) اس واقعے کے مجرموں کا سراغ لگانے اور مزید حملوں کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔

حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ نے کہا کہ سیالکوٹ کی ایک مسجد میں فائرنگ کے واقعے میں چند افراد قتل کیے گئے، انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور اب انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا اس حملے کی منصوبہ بندی پاکستان سے باہر کی گئی، دشمن انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک شخص کو پاکستان بھیجا، ہمارے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے کہ یہاں آنے والا شخص کون ہے، وہ کس سے ملا، اس کی جیو لوکیشن بھی ہمارے پاس موجود ہے، وہ دہشت گرد 6 سے 9 اکتوبر کے درمیان یہاں آئے اور 11 اکتوبر کو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پولیس اپنی آئندہ پریس کانفرنس میں تینوں حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کی شناخت کے ساتھ دشمن ملک کی نشاندہی بھی کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بکنگ ڈاٹ کام اور دیگر سائٹس کے ڈیٹا سمیت تمام قسم کے ثبوت موجود ہیں، ہمارے کانسٹیبل گئے اور ہوٹلوں کی تلاشی لی، ہم نے سی ٹی ڈی کے ساتھ مل کر ناقابل تردید شواہد اکٹھے کیے ہیں جنہیں ہم میڈیا اور عدالت میں پیش کریں گے۔

سیالکوٹ حملہ

مقتول کارکن مولانا شاہد لطیف کے سیکیورٹی گارڈ ذوالفقار علی نے بتایا تھا کہ 11 اکتوبرکی صبح 6 نامعلوم افراد موٹر سائیکلوں پر منڈیکے گورایا چوک میں واقع نوری مدینہ مسجد پہنچے جن میں سے تین نماز میں شامل ہوگئے۔

انہوں نے کہا تھا کہ بعد ازاں گولیوں کی آوازیں سنی گئیں اور چند ہی لمحات میں حملہ آور جائے وقوع سے فرار ہوگئے، مسلح ملزمان نے مجھ پر بھی گولی چلائی لیکن میں محفوظ رہا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ سے نمازی مولانا احد، مولانا محمد لطیف اور ان کا ایک سیکیورٹی گارڈ ہاشم علی شدید زخمی ہوگئے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مولانا محمد لطیف سر میں گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جب کہ مولانا احد اور سیکیورٹی گارڈ کو تشویشناک حالت میں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈسکہ منتقل کیا گیا۔

بعد ازاں گارڈ بھی دم توڑ گیا جب کہ مولانا احد کو گوجرانوالہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ بھی دم توڑ گئے۔

عینی شاہدین قمر عباس اور سلیم ورک نے بتایا تھا کہ ملزمان کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سیالکوٹ محمد حسن اقبال نے کہا تھا کہ اسے ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا واقعہ کہا جا سکتا ہے، انہوں نے مزید کہا تھا کہ پولیس تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوع سے تمام شواہد اور مقامی لوگوں کے بیانات حاصل کر لیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی پی او نے تصدیق کی کہ محمد شاہد لطیف کالعدم جیش محمد (جی ای ایم) کا سرگرم کارکن تھا۔

پس منظر

بھارتی نیوز ویب سائٹ ’این ڈی ٹی وی‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ مولانا شاہد لطیف نے ان چار دہشت گردوں کی رہنمائی کی تھی جنہوں نے 2016 میں پٹھان کوٹ ایئربیس پر دہشت گردانہ حملہ کیا تھا، اس نے رپورٹ کیا کہ بھارتی فضائیہ کے 7 اہلکار اس وقت مارے گئے جب جیش محمد کے چار دہشت گرد پٹھان کوٹ ایئر فورس اسٹیشن میں گھس آئے تھے، یہ مقابلہ تین روز تک جاری رہا تھا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا شاہد لطیف کو 1994 میں دہشت گردی کے الزام میں بھارت میں گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد ان پر مقدمہ چلا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا، اس نے 2010 میں اپنی سزا مکمل کی جس کے بعد انہیں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

سابقہ قتل

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ کی ایک مسجد میں کالعدم جماعت الدعوۃ سے وابستہ ایک سابق کارکن کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، محمد ریاض عرف ابو قاسم کشمیری صابر شہید اسٹیڈیم کے قریب واقع القدس مسجد میں فجر کی نماز ادا کر رہے تھا کہ حملہ آوروں نے ان پر چار گولیاں چلائیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

محمد ریاض کا تعلق بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں پونچھ کے علاقے سورنکوٹ سے تھا، وہ مبینہ طور پر نوے کی دہائی کے اواخر میں متنازع ہمالیائی علاقے کے اس طرف ہجرت کر کے آگئے تھے اور عارضی طور پر ضلع کوٹلی کے مہاجر کیمپ میں آباد ہو گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق وہ 2019 میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کیے جانے سے قبل اس سے وابستہ رہے تھے۔

محمد ریاض مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریکوں سے وابستہ تیسرے نمایاں شخص تھے جنہیں حالیہ مہینوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 20 فروری کو راولپنڈی میں حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر بشیر احمد پیر عرف امتیاز عالم کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے تقریباً ایک ہفتے بعد سید خالد رضا کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا جسے پولیس نے ’ٹارگٹڈ حملہ‘ قرار دیا تھا، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ البدر مجاہدین گروپ کے سابق کمانڈر تھے جو مقبوضہ کشمیر میں کمانڈر تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں