اسٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2023
اسٹیٹ بینک نے مسلسل تیسری مرتبہ شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھا ہے — فائل/فوٹو: رائٹرز
اسٹیٹ بینک نے مسلسل تیسری مرتبہ شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھا ہے — فائل/فوٹو: رائٹرز

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود ایک مرتبہ پھر 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آج زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس ہوا جہاں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کمیٹی نے سخت زری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیا اور اعادہ کیا کہ مالی سال 2025 کے اختتام پر مہنگائی کی کم کرکے شرح 5 سے 7 فیصد تک لانے کے لیے حقیقی شرح واضح طور پر مثبت بنیاد پر آگے جا رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اجلاس میں کہا گیا کہ وسط مدتی مہنگائی کا ہدف مستحکم رکھنے کی بنیاد مالی استحکام اور بیرونی رقوم کی بروقت آمد اور وصولی کے منصوبے قائم پر ہے۔

کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ستمبر میں عمومی مہنگائی توقع کے مطابق بڑھی تاہم تخمینے کے مطابق اکتوبر میں کمی آئے گی اور پھر مالی سال کی دوسری ششماہی میں عمومی مہنگائی میں کمی جاری رہے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہے اور نومبر سے گیس کی قیمت میں اضافہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے مالی سال 2024 کے لیے کچھ خطرات موجود ہیں لیکن اجلاس میں اثر زائل کرنے والے عوام کو بھی نوٹ کیا ہے، جس میں مالیاتی استحکام، اہم اجناس کی مارکیٹ میں دستیابی میں بہتری اور بینکوں کے درمیان اور اوپن مارکیٹ ایکسچینج ریٹ کے مطابقت شامل ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ خریف کی فصلوں کے ابتدائی تخمینے حوصلہ افزا ہیں اور اس کے دیگر شعبوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اگست اور ستمبر میں خاصا کم ہوا ہے، جس سے بیرونی فنانسنگ میں کمی سے زرمبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مالیاتی استحکام درست سمت گامزن ہے اور مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اور بنیاد توازن میں بہتری آئی ہے، مجموعی طور پر مہنگائی کا رجحان برقرار ہے لیکن تاہم صارفین اور کاروباری اداروں کی توقعات بہتر ہوئی ہوئی ہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل قیمتوں سے متعلق بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 14 ستمبر کو بھی شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک نے بیان میں کہا تھا کہ اس فیصلے میں مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار پیش نظر رکھے گئے ہیں جن سے مہنگائی کے گرتے ہوئے رجحان کی عکاسی ہوتی ہے، مہنگائی مئی میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے گر کر اگست میں 27.4 فیصد پر آگئی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں حال ہی میں بڑھی ہیں اور توانائی کی سرکاری قیمتوں میں ردوبدل کے ذریعے صارفین کو منتقل کی جا رہی ہیں، تاہم تخمینے کے مطابق مہنگائی کا رجحان کمی کی طرف گامزن رہے گا اور خصوصاً اس سال کی دوسری ششماہی سے مہنگائی میں کمی ہوگی، اس طرح آئندہ حقیقی شرح سود مثبت دائرے میں برقرار رہے گی۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 27 جون کو عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے پیش نظر شرح سود بڑھا کر 22 فیصد کردی تھی، جس کے بعد 31 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں اسی شرح کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ اجلاسوں کا جائزہ لیا اور آخری ریگولر اجلاس 12 جون کو ہوا تھا جس کے بعد ایک خاص اجلاس 26 جون کو ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ کمیٹی نے ان دونوں اجلاسوں کے درمیان جو معاشی اتار چڑھاؤ آیا تھا، اس کا جائزہ لیا اور کمیٹی نے شرح سود کو 22 فیصد تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بیرونی چیزوں، افراط زر میں پیش رفت کا بھی معائنہ کیا اور سی بی آئی میں سالانہ مہنگائی کا بھی جائزہ لیا گیا کیونکہ مئی میں افراط زر 38 فیصد تھی جو کہ جون کے مہینے میں کم ہوکر 29.4 فیصد رہ گئی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ مالی سال 2023 میں افراط زر کا تناسب 29.2 فیصد رہا، کمیٹی نے اگلے سال کے لیے بھی افراط زر کا معائنہ کیا اور ماہر اقتصادیات کی پیش گوئی سے افراط زر 20 سے 22 فیصد رہنے کی توقع کی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مئی میں افراط زر 29.4 فیصد تھی لیکن آنے والے مہینوں کے اندر یہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوگی، مزید کہا کہ اگلے سال جنوری سے جون تک افراط زر تیزی سے کم ہوگی، اور کمیٹی نے اصرار کیا ہے کہ مالی سال 2025 ختم ہونے سے قبل افراط زر کو 5 سے 6 فیصد تک لایا جائے گا جس کے لیے ہم درست سمت پر ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپریل 2022 سے جولائی تک شرح سود میں 12.25 اضافہ کردیا تھا جس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے جون میں کہا تھا کہ گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح بلند ترین 38 فیصد کو پہنچ گئی تھی اور رواں ماہ اس میں کمی آئی ہے۔

دوسری جانب مہینے کے اختتام سے قبل ہی آئی ایم ایف سے معاہدہ یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اجلاس میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے جواز پیش کیا تھا کہ مہنگائی میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے میمورنڈم آف اکنامکس اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) میں کہا گیا تھا کہ زری کمیٹی کے اگلے اجلاس میں مزید اقدامات کے لیے تیار ہیں، جب تک مہنگائی کی شرح واضح طور پر تنزلی کی طرف گامزن نہیں ہوتیں۔

تبصرے (0) بند ہیں