ورلڈ کپ 2023 میں سری لنکا 55 رنز پر ڈھیر، بھارت کی لگاتار ساتویں فتح

اپ ڈیٹ 02 نومبر 2023
محمد شامی کی گیند پر سری لنکن بلے باز اینجلو میتھیوز کے بولڈ ہونے کا منظر— فوٹو: رائٹرز
محمد شامی کی گیند پر سری لنکن بلے باز اینجلو میتھیوز کے بولڈ ہونے کا منظر— فوٹو: رائٹرز
بھارت کے شریاس آئیر نے 56 گیندوں پر 82رنز کی باری کھیلی— فوٹو: رائٹرز
بھارت کے شریاس آئیر نے 56 گیندوں پر 82رنز کی باری کھیلی— فوٹو: رائٹرز

ورلڈ کپ 2023 میں بھارت نے فاسٹ باؤلرز کی تباہ کن کارکردگی کی بدولت سری لنکا کو محض 55 رنز پر ڈھیر کر کے 302 رنز کے بھاری مارجن سے فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی کپ میں لگاتار ساتویں کامیابی بھی حاصل کر لی۔

بھارت کے شہر ممبئی کے وانکھیڈے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا جو بالکل غلط ثابت ہوا۔

بھارت نے اننگز کا آغاز کیا تو پہلی ہی گیند پر روہت شرما نے چوکا رسید کیا لیکن دوسری ہی گیند پر مدھو شانکا نے شان دار انداز میں واپسی کرتے ہوئے بھارتی کپتان کو بولڈ کر دیا، یہ گیند وکٹ پر پڑنے کے بعد باہر کی جانب نکلی اور روہت شرما کی آف اسٹمپ اڑا گئی۔

اس کے بعد شبمن گل کا ساتھ دینے تجربہ کار ویرات کوہلی آئے اور ابتدائی 10 اوورز کے دوران سری لنکن باؤلرز کی شاندار سوئنگ اور لائن اور لینتھ پر باؤلنگ کے سامنے دونوں بھارتی بلے باز جدوجہد کرتے نظر آئے۔

ویرات کوہلی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہونے سے بال بال بچے جب ان کی جانب سے شارٹ فائن لیگ کی جانب کھیلا گیا تو گیند فیلڈر سے محض ایک قدم کی دوری پر گری۔

سری لنکا کو میچ کے چوتھے اوور میں کوہلی کو آؤٹ کرنے کا موقع ملا لیکن دشمانتھا چمیرا اپنی ہی گیند پر ان کا مشکل کیچ لینے میں ناکام رہے جبکہ اندر آتی ہوئی اگلی ہی گیند کوہلی کے بلے سے لگنے کے بعد وکٹ کیپر کی جانب گئی لیکن وہ بھی ایک قدم پہلے ہی گر گئی۔

میچ کے پانچویں اوور میں شبمن گل کو بھی اس وقت نئی زندگی ملی جب مدھوشانکا کی گیند پر کور پر کھڑے اسالانکا ایک مشکل کیچ نہ تھام سکے جبکہ پانچویں اوور کی پہلی گیند پر چمیرا نے ایک مرتبہ پھر اپنی ہی گیند پر کوہلی کا کیچ گرا دیا۔

بھارتی بلے بازوں نے ابتدائی مواقع سے فائدہ اٹھایا اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے دوسری وکٹ کے لیے بڑی شراکت قائم کی۔

دونوں کھلاڑیوں نے نصف سنچریاں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 189 رنز کی ساجھے داری بنائی لیکن 194 کے مجموعی اسکور پر شبمن گل کی 11 چوکوں اور دو چھکوں سے مزین 92 رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔

ویرات کوہلی ایک مرتبہ پھر 49ویں سنچری کی جانب گامزن تھے لیکن اس مرتبہ بھی قسمت کی دیوی نے ساتھ نہیں دیا اور وہ 88 رنز بنانے کے بعد چلتے بنے، ان کی اننگز میں 11 چوکے شامل تھے۔

محض چند گیندوں کے فرق سے دو سیٹ بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد وکٹ پر شریاس آئیر اور لوکیش راہُل کی آمد ہوئی اور دونوں نے اس مشکل وقت میں 66 رنز کی شراکت بنائی لیکن 40ویں اوور کی دوسری گیند پر دشمانتھا چمیرا نے اپنی ٹیم کو کامیابی دلاتے ہوئے 21 رنز بنانے والے راہُل کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

دوسرے اینڈ سے آئیر نے اپنی نصف سنچری مکمل کی البتہ سوریا کمار یادیو اس مرتبہ ناکامی سے دوچار ہوئے اور صرف 12 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

شریاس آئیر نے ایک اینڈ سنبھالنے رکھا اور رویندرا جدیجا کے ہمراہ چھٹی وکٹ کے لیے مزید 57 رنز جوڑ کر اپنی ٹیم کی بڑے اسکور تک رسائی یقینی بنائی۔

شریاس آئیر نے 56 گیندوں پر 6 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 82 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جبکہ جدیجا نے 24 گیندوں پر 35 رنز بنائے۔

بھارت نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 357 رنز بنائے۔

سری لنکا کی جانب سے مدھوشانکا نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں لیں لیکن اس کے لیے انہیں 80 رنز کی پٹائی بھی برداشت کرنا پڑی۔

سری لنکا کی اننگز کا آغاز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا اور اننگز کی پہلی گیند پر بمراہ نے پتھم نسانکا کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

دوسرے اینڈ سے سراج نے بھی اپنے اسپیل کی پہلی گیند پر کاری ضرب لگاتے ہوئے دمتھ کرونارتنے کا کام تمام کر دیا اور پھر اسی اوور کی پانچویں گیند پر سدیرا سماراوکراما کو بھی سلپ میں کیچ کرا دیا۔

سراج نے شان دار باؤلنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے اگلے اوور میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے سری لنکن کپتان کوشل مینڈس کا کام تمام کردیا۔

اس موقع پر سری لنکن ٹیم صرف تین رنز پر چار ابتدائی بلے بازوں سے محروم ہو چکی تھی اور ابتدائی 10 اوورز میں کوئی بھی باؤنڈری نہ مار سکی تھی۔

اسکور بمشکل 14 تک پہنچا ہی تھا کہ روہت شرما فاسٹ باؤلر محمد شامی کو لے آئے جنہوں نے ایک بار پھر پہلے ہی اوور میں اپنی ٹیم کو وکٹ دلائی اور اگلی گیند پر بھی وکٹ حاصل کرتے ہوئے لگاتار دو گیندوں پر چارتھ اسالانکا اور دوشان ہیمانتھا کو چلتا کردیا۔

اسکور جیسے تیسے 22 تک پہنچا ہی تھا کہ شامی کی گیند پر دشمانتھا چمیرا وکٹوں کے عقب میں موجود لوکیش راہُل کو کیچ دے بیٹھے، اس وکٹ کا سہرا دراصل راہُل کے سر ہی رہا کیونکہ امپائر نے اس گیند کو وائیڈ قرار دیا تھا لیکن وکٹ کیپر مصر رہے کہ گیند بلے باز کے دستانوں سے لگی ہے جس کے بعد بھارتی کپتان نے ریویو لیا اور یہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔

تجربہ کار اینجلو میتھیوز نے شاندار سوئنگ اور سیم باؤلنگ کے سامنے کچھ دیر مزاحمت کی لیکن بالآخر 12 رنز بنانے والے بلے باز بھی شامی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

سری لنکا کی ٹیم ون ڈے کے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہونے کی خفت سے تو بچ گئی لیکن بھارتی باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب ایک بدترین شکست کا داغ دھونے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

49 کے مجموعی اسکور پر شامی نے ایک اور ضرب لگاتے ہوئے کاسن رجیتھا کی واپسی کا سامان کیا اور ورلڈ کپ میں ایک مرتبہ پھر پانچ وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا، اس وکٹ کے ساتھ ہی وہ ورلڈ کپ میں بھارت کے لیے سب سے زیادہ 46 وکٹیں لینے والے باؤلر بھی بن گئے اور یہ کارنامہ صرف 14 میچوں میں انجام دیا۔

بھارت کو آخری وکٹ کے لیے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا اور 20ویں اوور میں پوری سری لنکن ٹیم صرف 55 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔

بھارت نے میچ میں 302 رنز سے کامیابی حاصل کر کے ورلڈ کپ میں لگاتار ساتویں فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر بھی پہلی پوزیشن سنبھال لی۔

بھارت کی جانب سے محمد شامی نے 18 رنز کے عوض 5 جبکہ سراج نے تین وکٹیں لیں۔

شامی کو ان کی تباہ کن باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

آج کے میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

بھارت: روہت شرما (کپتان)، شبمن گل، ویرات کوہلی، شریاس ائیر، کے ایل راہول، سوریہ کمار یادو، رویندر جڈیجا، محمد شامی، جسپریت بمراہ، کلدیپ یادو، محمد سراج۔

سری لنکا: کوشل مینڈس (کپتان)، پاتھم نسانکا، دیموتھ کرونارتنے، سدیرا سماراویکراما، چارتھ اسالنکا، انجیلو میتھیوز، مہیش تھیکشانا، کسون رجیتھا، دلشان مدھوشنکا، دشمنتھا چمیرا، دشن ہیمنتھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں