بلوچستان کے ضلع گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے 14 اہلکار شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑی ضلع گوادر میں پسنی سے اورماڑہ جا رہی تھی کہ گھات لگائے دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بدقسمت واقعے میں 14 فوجی اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں پاک فوج کی جانب سے آپریشن جاری ہے اور اس بدترین واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مزید بتایا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور بہادر جوانوں کی اس طرح کی قربانیوں سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ضلع گوادر میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے 14 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، شہدا کی بلندیِ درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، شہدا نے ملک کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم کو اپنے شہدا پر فخر ہے، دہشت گردوں کے ایسے بزدلانہ حملے پاکستانی قوم اور اس کے رکھوالوں کے حوصلے کبھی پست نہ کر پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے گوادر میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے واقعات قابل مذمت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دعائیں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگوہ ہیں، پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کھڑا رہے گا۔

بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ علی مردان خان ڈومکی نے بھی دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی اور بیان میں کہا کہ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت پر مامور جوانوں پر حملہ بزدلانہ حرکت ہے۔

علی مردان ڈومکی نے واقعے میں شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کا حملہ صوبے کا امن سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیے گئے امن کو خراب کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں گوادر میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’پسنی، گوادر میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت اطلاع پر شدید دکھ ہوا، ہماری مسلح افواج اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے وطنِ عزیز کی حفاظت اور دشمنوں کی سازشوں کا جوان مردی سے مقابلہ کر رہی ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شہدا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں، جنہوں نے اس اندوہناک حملے میں اپنے بہادر سپوتوں کو کھو دیا ہے‘۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی واقعے کی مذمت کی اور بیان میں کہا کہ ’دہشت گردوں نے پسنی اورماڑہ کے راستے پر گھات لگا کر فوجی جوانوں پر بزدلانہ حملہ کیا، شہید ہونے والے 14 سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی، نفرت اور تقسیم کی سوچ کا جڑ سے خاتمہ کرکے ہم اپنے جوانوں کے خون کا بدلہ لیں گے‘۔

کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے گزشتہ برس نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

گوادر میں سیکیورٹی فورسزکی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے سے قبل خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ٹانک اڈہ کے قریب پولیس پر کیے گئے بم دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور20 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں یکم نومبر کو ضلع ژوب کے علاقے سمبازا میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرکے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے سمبازا میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور اس دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا اور 6 دہشت گرد مارے گئے، مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں مصروف تھے۔

خیال رہے کہ 30 اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے کھوڑو میں کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو سیکیورٹی اہلکار شہید اور دو دہشت گرد مارے گئے تھے۔

رواں برس جولائی میں بلوچستان کے ضلع سوئی اور ژوب میں دو الگ کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 12 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

ضلع سوئی اور ژوب میں سیکیورٹی فورسز پر ایک دن میں ہونے والا یہ سال کا بدترین واقعہ تھا، اس سے قبل فروری 2022 میں بلوچستان کے ضلع کیچ میں فائرنگ سے 10 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

ستمبر میں پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے مرتب اعداد وشمار میں کہا گیا تھا کہ اگست میں دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد 9 سال کے دوران سب سے زیادہ رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نومبر 2014 کے بعد ملک بھر میں ایک مہینے میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ 99 حملے ہوئے۔

تبصرے (0) بند ہیں