بھارت: ہمالیائی علاقے میں سرنگ حادثہ، پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکالنے کیلئے امدادی کام جاری

18 نومبر 2023
جمعہ کو ملبے میں سوراخ کرنے والی آگر مشین ٹوٹ گئی تھی۔ — فوٹو: اے ایف پی
جمعہ کو ملبے میں سوراخ کرنے والی آگر مشین ٹوٹ گئی تھی۔ — فوٹو: اے ایف پی

بھارت کے ہمالیائی علاقے میں گزشتہ ہفتے منہدم ہونے والی شاہراہ کی سرنگ میں پھنسے ہوئے درجنوں مزدوروں تک رسائی کی کوششیں کرنے والے امدادی کارکناں ہفتے کو کھدائی کرنے والی درکار مشین تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ کام دوبارہ شروع ہوسکے۔

غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے دفتر نے بتایا کہ ریاست اتراکھنڈ میں سرنگ میں پھنسے لوگوں کی تعداد 41 ہے اور حکام کا کہنا تھا کہ تمام افراد محفوظ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امدادی کام کے دوران جمعے کو ملبے میں سوراخ کرنے والی آگر مشین ٹوٹ گئی۔

ریاست کے زیر انتظام نیشنل ہائی ویز اینڈ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایچ آئی ڈی سی) کے ڈائریکٹر انشو ملک ہلکو نے رائٹرز کو بتایا کہ بھارت کی وسطی ریاست مدھیا پردیش سے ایک نئی مشین جائے وقوع پر پہنچا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم اندر سے ناکارہ مشین باہر لائیں گے اور پھر نئی مشین لگائیں گے، اس میں وقت لگے گا اور میں ٹائم لائن پر تبصرہ نہیں کر سکتا، یہ ایک نازک اور خطرناک آپریشن ہے۔

امدادی ٹیموں کے ارکان ایک سرنگ کے دروازے پر کھڑے ہیں جہاں 17 نومبر 2023 کوسرنگ کا ایک حصہ گرنے کے بعد مزدور پھنسے ہوئے ہیں—فوٹو: رائٹرز
امدادی ٹیموں کے ارکان ایک سرنگ کے دروازے پر کھڑے ہیں جہاں 17 نومبر 2023 کوسرنگ کا ایک حصہ گرنے کے بعد مزدور پھنسے ہوئے ہیں—فوٹو: رائٹرز

انتظامیہ نے واضح نہیں کیا کہ سرنگ منہدم ہونے کی وجہ کیا تھی تاہم اس خطے میں زلزلے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے۔

حادثے کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ جب سرنگ منہدم ہوئی تو اس وقت 50 سے 60 مزدور نائٹ شفٹ پر تھے اور جو لوگ خارجی راستے کے قریب تھے وہ قومی شاہراہ پرسرنگ سے باہر نکل گئے، جو چاردھم ہندو مذہب کے مقدس مقام کا حصہ ہے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایچ آئی ڈی سی) کی رپورٹ کے مطابق جمعے کو بڑے پیمانے پر کڑک دار آواز سنی گئی تھیں، جس کے باعث کام معطل کر دیا گیا تھا، جبکہ امدادی کارکنان نے سوراخ کرنے والی مشین کو دوبارہ چلانے کی کوشش بھی کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جائے وقوع پر ہفتے کو درجنوں مزدور جمع ہوئے اور انہوں نے سرنگ میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور ان کو بچانے کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کی قیادت کرنے والے مزدور وشنو ساہو کا کہنا تھا کہ امدادی ٹیموں نے مزدوروں کو آپریشن کی رفتار کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداران یہاں آئیں۔

یاد رہے کہ بھارت کے شمالی علاقے میں کام کے دوران سرنگ ڈھے جانے کے نتیجے میں کم از کم 40 تعمیراتی کارکن پھنس گئے تھے اور ریسکیو حکام ملبے تلے دبے ان کارکنوں کو بچانے میں مصروف ہے۔

ضلع اترکاشی کے اعلیٰ سرکاری افسر ابھیشیک روہیلہ نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا تھا کہ ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے ان سے رابطہ بحال کرلیا ہے اور خوراک اور آکسیجن کی سپلائی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے 4 کلومیٹر لمبی یہ سرنگ سلکیارا اور دندلگاؤں کے درمیان تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ ہندوؤں کے دو مقدس ترین مندروں اترکاشی اور یمنوتری منسلک ہو سکیں۔

یہ سرنگ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ چار دھم روڈ پروجیکٹ کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کے متعدد مشہور مندروں کے ساتھ ساتھ چین کی سرحد سے متصل علاقوں کا ملک کے بقیہ حصوں کے ساتھ رابطہ بہتر بنانا ہے۔

بھارت میں بنیادی ڈھانچے جیسے پُل اور سرنگ وغیرہ کی تعمیر کے دوران حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

جنوری میں اتراکھنڈ میں سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ماہرین نے حادثے کی وجہ سے علاقے میں بڑے پیمانے پر جاری ترقیاتی کاموں کو قرار دیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں