یرغمالیوں کی رہائی، جھڑپوں میں وقفہ جمعہ سے قبل نہیں ہوگا، اسرائیل

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2023
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے — فوٹو: رائٹرز
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے — فوٹو: رائٹرز

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر اور امریکا نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 4 روزہ جنگ بندی کے تحت یرغمالیوں کی رہائی جمعہ سے قبل نہیں ہوگی۔

اسرائیل اور حماس نے گزشتہ روز غزہ میں کم از کم 4 روز کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاکہ انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دی جاسکے اور اسرائیل میں قید 150 فلسطینیوں کے بدلے حماس کے زیرِ حراست 50 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ جنگ بندی صبح 10 بجے شروع ہونے کی توقع ہے جبکہ ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے توقع ظاہر کی تھی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جھڑپوں میں وقفے کے آغاز کا اعلان 24 گھنٹوں میں کر دیا جائے گا۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے عندیہ دیا کہ حماس کے زیرحراست 50 اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کارروائی جاری ہے لیکن یہ جمعہ سے قبل نہیں ہوگا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے یرغمال بنائے گئے لوگوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے اور مسلسل رابطے جاری ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے کہا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے لاجسٹک امور پر کارروائی جاری ہے، پیش رفت ہورہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ جمعہ کی صبح سے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

ایک فلسطینی عہدیدار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ تاخیر کی وجہ ’آخری لمحات‘ میں طے پائی جانے والی تفصیلات ہیں کہ کن یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اور رہائی کا عمل کیسے سرانجام دیا جائے گا۔

مذاکراتی عمل سے واقف عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کے ناموں اور ان کی رہائی کے طریقہ کار طے کرنے کے لیے جنگ بندی کا عمل روکا گیا، دونوں اطراف سے رہائی پانے والوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے اور مثبت انداز میں پیش رفت ہورہی ہے، جنگ بندی کے لیے طے پایا جانے والا معاہدہ آئندہ چند گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔

جنگ بندی میں تاخیر اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے بےچین خاندانوں اور 20 لاکھ سے زائد غزہ کی آبادی کے لیے دھچکا ہے جو 47 روز کی شدید بمباری کے خاتمے کے لیے دعا کر رہے ہیں۔

طبی حکام کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران غزہ میں 14 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 40 فیصد بچے تھے۔

’جھڑپوں میں کوئی کمی نہیں آئی‘

رپورٹس میں بتایا گیا کہ آج دن کے اوائل تک غزہ میں جھڑپوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔

فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں اور توپوں سے غزہ کے جنوبی شہر خان یونس پر 2 بار حملہ کیا گیا جس میں 15 افراد جاں بحق ہوگئے، جبالیہ کیمپ اور نصرت کیمپ سمیت غزہ کے کئی دوسرے حصوں میں بھی حملوں کی اطلاع ملی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز حماس کے 300 سے زائد اہداف پر فضائی حملے کیے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسرائیل میں غزہ کی جانب سے راکٹ داغے جانے کی وارننگ کے لیے بارڈر کے قریب سائرن بج رہے ہیں، نقصان یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

اسرائیل بھی شمالی غزہ میں اپنی جارحیت کو آگے بڑھاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، عینی شاہدین نے کمال عدوان ہسپتال اور قریبی گھروں پر حملوں کی اطلاع دی۔

گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 50 خواتین اور بچوں کو 4 روز میں رہا کیا جائے گا، اس دوران لڑائی میں وقفہ ہوگا۔

بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا ذکر کیے بغیر بیان میں کہا گیا تھا کہ ہر 10 اضافی یرغمالیوں کو رہا کیے جانے پر جنگ بندی میں مزید ایک دن کا اضافہ کیا جائے گا۔

اسرائیل کی وزارت انصاف نے 300 فلسطینی قیدیوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔

یہ معاہدہ اس تنازع کی پہلی جنگ بندی ہے، ان جھڑپوں کے دوران اسرائیلی بمباری نے غزہ کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا ہے، 14 ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کی کُل 23 لاکھ آبادی میں سے تقریباً دو تہائی افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

7 اکتوبر سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تازہ جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا یہ معاہدہ قطر کی ثالثی کے بعد گزشتہ روز طے پایا تھا اور اسے دنیا بھر کی حکومتوں نے غزہ میں شہریوں کی مشکلات میں ممکنہ طور پر کمی کے امکان کے طور پر دیکھا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں