بھارت: منہدم سرنگ میں پھنسے ہوئے41 مزدروں کو نکالنے کیلئے امدادی کوششیں جاری

27 نومبر 2023
وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ پشکر سنگھ دھامی نے  اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام افراد کو باحفاظت نکالا جائے گا۔ — فوٹو: اے ایف پی
وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ پشکر سنگھ دھامی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام افراد کو باحفاظت نکالا جائے گا۔ — فوٹو: اے ایف پی

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں منہدم سرنگ میں پھنسے ہوئے 41 افراد کو نکالنے کی کوششیں 16 روز جاری سے ہیں لیکن اس کارروائی کے دوران ہر روز ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔

غیرملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ میں دور دراز پہاڑی مقام پر درجہ حرارت گرنے کے ساتھ فوجی افسران نے ایک نام نہاد ’ریٹ ہول مائننگ‘ تکنیک استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں باقی ماندہ 9 میٹرز تک ہاتھوں کے ذریعے ملبے اور چٹانوں کو ہٹایا جائے گا۔

پچھلے ہفتے انجینئرز 57 میٹر چٹان اور کنکریٹ کے ذریعے ایک دھاتی پائپ افقی طور پر چلاتے ہوئے زمین بوس میٹل گرڈرز اور تعمیراتی گاڑیوں کا استعمال کیا، جس سے زمین میں کھدائی کرنے والی بڑی مشین اگور ٹوٹ گئی۔

سینئر سرکاری عہدیدار ابھیشیک روہیلہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھات صاف کرنے کے لیے ایک خصوصی سپر ہیٹڈ پلازما کٹر لانے کے بعد سرنگ کے اندر پھنسی ہوئی اگور (ڈرلنگ) مشین کے ٹوٹے ہوئے پرزے ہٹا دیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دستی ڈرلنگ کا کام شروع کرنے کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں، بھارتی آرمی انجینئرنگ بٹالین کے اہلکار، دیگر ریسکیو افسران کے ساتھ، ریٹ ہول مائننگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

سخت موسمی حالات میں انجینئرز راستہ صاف کرنے کے لیے دستی مشقوں کا استعمال کریں گے، یہ تنگ پائپ میں کیے جانے والا ایک مشکل کام ہے، جس کی چوڑائی انسان کو وہاں صرف رینگ کر نکلنے تک کی ہے۔

’انتہائی مشکل‘

ایک الگ کوشش میں، 89 میٹر گہری سرنگ تک پہنچنے کے لیے عمودی ڈرلنگ 89 چوتھائی سے زیادہ حصے تک پہنچ گئی ہے، یہ ایک ایسے علاقے میں خطرناک راستہ ہے جو پہلے ہی منہدم ہو چکا ہے۔

قومی شاہراہوں سے متعلق وزارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار محمود احمد نے کہا کہ عمودی ڈرلنگ تیز رفتاری سے جاری ہے جہاں ٹیمیں اتوار کو 19 میٹر تک پہنچ گئی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کام تیز رفتاری لیکن احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرنگ کے بہت دور سے کھدائی، بلاسٹنگ اور ڈرلنگ بھی شروع کردی گئی ہے، یہ ایک بہت طویل تیسرا راستہ جس کا تخمینہ تقریباً 480 میٹر ہے۔

خیال رہے کہ 41 مزدور 12 نومبر سے سلکیارا روڈ سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ملبہ گرنے اور ڈرلنگ مشینوں کے بار بار خراب ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں خلل پڑ رہا ہے اور کارروائی سست اور مزید مشکل ہو گئی ہے۔

چیلنجنگ ہمالیائی خطوں کے بارے میں حکومتی انتباہ کے ساتھ یہ امید بھی دم توڑ گئی کہ ٹیم بدھ کے روز ایک پیش رفت کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔

منہدم سرنگ میں پھنسے ہوئے افراد کے پریشان رشتہ داروں کے لیے یہ ایک ایسی آزمائش ہے جس کافوری طور پر کوئی انجام نظر نہیں آتا۔

لیکن اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے پیر (آج)کو اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ فکر نہ کریں، تمام مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا جائے گا۔

مزدوروں کو پہلی بار منگل کے روز زندہ دیکھا گیا، وہ ایک باریک پائپ کے نیچے امدادی عملے کے بھیجے گئے اینڈواسکوپک کیمرے کے لینس میں جھانک رہے تھے جس کے ذریعے ہوا، خوراک، پانی اور بجلی کی ترسیل کی جا رہی ہے۔

منہدم سرنگ میں 41 مزدور اگرچہ پھنسے ہوئے ہیں لیکن ان کے پاس سرنگ میں کافی جگہ موجود ہے، جس کے اندر کا علاقہ 8.5 میٹر بلند اور اس کی لمبائی تقریباً دو کلومیٹر ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں