نگران وزیراعظم کا دورہ متحدہ عرب امارات، اربوں ڈالر مالیت کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2023
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں—فوٹو: اے پی پی
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں—فوٹو: اے پی پی

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدوں کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرلیے گئے ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کی ہرآزمائش پر پورا اترے ہیں۔

انہوں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ اسٹرٹیجک تعاون اور بات چیت مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے اقتصادی اور مالیاتی شعبے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لئے بھرپور تعاون پر اظہار تشکر کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعظم کے دفتر سے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا مختصر ویڈیو بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’آج ابو ظبی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اربوں ڈالر کی مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس میں متخلف شعبے شامل ہیں، اسے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان نئے دور، اقتصادی تعاون، علاقائی استحکام، اسٹریٹجک تعاون کے حوالے سے نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شیخ زاید نے 70 کی دہائی میں اس دوستی کی بنیاد رکھی اور اس کو آج ان کے صاحبزادے شیخ محمد بن زاید النہیان ایک نئے دور کی جانب لے کر گئے ہیں‘۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے موقع پر نگران حکومت کے وفاقی وزرا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور دیگر موجود تھے اور اسی طرح متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ان کے اہم وزرا شریک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کے معاشی ثمرات بہت جلد پاکستان کی معیشت پر بڑے مثبت انداز میں آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات 18 لاکھ پاکستانیوں کا گھر ہے جو دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوش حالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے خصوصی طور پر علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نے 28ویں کانفرنس آف پارٹیز کوپ۔28 کے لئے یو اے ای کی صدارت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے قیام سمیت ماحولیاتی اثرات کم کرنے کے لیے کلیدی شعبوں میں مؤثر اور نتیجہ خیز عالمی اقدامات کی جانب بامعنی پیش رفت کے موقع کے طور پر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

متحدہ عرب امارات کے صدر اور نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی موجودگی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

بیان کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے تحت مختلف اقدامات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم انوارالحق کاکر نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا، جس سے پاک متحدہ عرب امارات اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

خیال رہے کہ 26 نومبر کو نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ تین روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پہنچ گئے تھے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ابوظبی کے البطین ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے وزیر انصاف عبداللہ سلطان بن عواد النعیمی اور پاکستان کے سفارتی حکام نے وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا استقبال کیا۔

دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نگران وزیراعظم 26 سے 28 نومبر تک اپنے دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، ثقافتی، دفاع اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات سمیت دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔

بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ اس دورے میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز کے منصوبوں، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سیکیورٹی، لاجسٹک، کان کنی، ایوی ایشن اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں تعاون سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں