معروف اداکارہ نمرہ خان نے ماضی میں ہونے والے اپنے خطرناک روڈ حادثے سے متعلق پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حادثے کے بعد ڈاکٹرز نے ان کے اہل خانہ کو جواب دے دیا تھا کہ نمرہ نہیں بچ پائیں گی، کیوں کہ حادثے میں ان کا دماغ اور جگر بھی سخت متاثر ہوئے تھے۔

نمرہ خان شوبز کیریئر کے آغاز میں 2014 میں اسلام آباد کے قریب خطرناک روڈ حادثے کا شکار بنی تھیں۔

اس وقت تک نمرہ خان غیر معروف تھیں لیکن ان کے حادثے کی خبریں میڈیا کی سرخیوں کی زینت بنی تھیں۔

اب تقریباً ایک دہائی بعد حال ہی میں انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں مذکورہ معاملے پر کھل کر بات کی۔

نمرہ خان نے اعتراف کیا کہ ان کی غلطی کی وجہ سے ہی حادثہ ہوا، انہوں نے پیچھے سے فوجیوں کی گاڑی کو تیز رفتاری سے گاڑی ماری۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کا اسٹیئرنگ ان کے سینے میں گھس گیا، جس نے اندر جاکر جگر کو سخت متاثر کیا جب کہ انہیں دماغ پر بھی شدید چوٹیں لگیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی دائیں ٹانگ پانچ جگہوں سے ٹوٹ گئی تھی جب کہ اس سے گوشت کا بہت بڑا ٹکڑا الگ ہوچکا تھا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ خطرناک حادثے کے کچھ ہی دیر بعد وہ بے ہوش ہوگئی تھیں اور انہیں انہی فوجی افسران نے ہسپتال پہنچایا، جن کی گاڑی کو انہوں نے ٹکر ماری تھی۔

انہوں نے فوجی افسران کی تعریفیں کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ابتدائی طور پر فوجی افسران کو لگا کہ ان پر خودکش حملہ ہوا ہے لیکن بعد ازاں انہوں نے انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔

نمرہ خان کے مطابق ہسپتال میں جب ان کا سی ٹی اسکین کیا گیا تب ہی ڈاکٹرز نے گھر والوں کو بتادیا تھا کہ ان کی زندگی اگر بچ بھی گئی تو بھی یہ کوما میں جا سکتی ہے، کیوں کہ ان کا دماغ اور جگر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

ان کے مطابق ان کا کافی خون بھی بہہ چکا تھا جب کہ اس وقت ان کا شراب نوشی کا ٹیسٹ بھی کیا گیا، شاید پولیس والوں کو شک گزرا کہ انہوں نے شراب نوشی کر رکھی ہے۔

اداکارہ کے مطابق ان کا ٹیسٹ منفی آیا تھا، ان سے متعلق پھیلائی گئی خبریں بے بنیاد ہیں کہ انہوں نے اس وقت شراب نوشی کر رکھی تھی یا منشیات کا استعمال کر رکھا تھا۔

ان کے مطابق حادثے کے بعد وہ چار دن وینٹی لیٹر پر رہیں جب کہ آپریشن کے بعد وہ کوما میں چلی گئی تھیں، 19 دن تک وہ کوما میں رہیں۔

نمرہ خان نے نئی زندگی ملنے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی دعاؤں اور فوجی افسران کی جانب سے بروقت طبی امداد کے لیے اچھے ہسپتال منتقل کیے جانے کی وجہ سے ان کی زندگی بچی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں