شاپنگ مال میں حفاظت کا کوئی نظام موجود نہیں تھا، فائر بریگیڈ کی رپورٹ

آر جے مال میں شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ سے کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے تھے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
آر جے مال میں شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ سے کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے تھے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی کے علاقے گلستان جوہر کے شاپنگ پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے محکمہ فائر بریگیڈ کی جانب سے تیار کردہ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاپنگ مال میں عوام کے تحفظ کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔

آر جے مال کے اندر ہفتہ کی صبح 6 بجکر 20 منٹ پر مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ سے کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے تھے۔

آگ عمارت کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے قبل ہی چوتھی منزل پر بھڑک اٹھی اور حکام کے مطابق ہلاکتیں عمارت میں وینٹیلیشن کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہوئیں۔

واقعے میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کے لیے پولیس ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

اتوار کو پولیس نے شارع فیصل تھانے میں عمارت میں آگ لگنے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ درج کی تھی اور ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا تھا، اس کے بجائے کہا گیا تھا کہ کے الیکٹرک اور عمارت کے نقشے کی منظوری دینے والے دیگر اداروں کے خلاف مشترکہ تحقیقات کی جائیں گی۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تیار کی گئی ایک ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی دروازے، ایگزٹ سائنز(اشارے)، حفاظتی طریقہ کار اور ایمرجنسی لائٹنگ یا پاور بیک اپ جیسی سہولیات متاثرہ عمارت میں ’دستیاب نہیں‘ تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آر جے مال میں فائر سیفٹی/فائٹنگ آلات اور ایمرجنسی راستوں سمیت عوام کے تحفظ کے حوالے سے کسی قسم کا نظام موجود نہیں تھا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ فائر بریگیڈ کو آگ کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں ملی اور جب فائر بریگیڈ جائے وقوع پر پہنچی تو تیسری اور چوتھی منزل میں شدید آگ لگی ہوئی تھی، شدید دھوئیں کی وجہ سے عملے کو آگ بجھانے کے کاموں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ آگ کس وجہ سے لگی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عمارت میں واقع دفاتر کے ملازمین کو دروازے توڑ کر بچا لیا گیا، جبکہ واقعے میں تمام 11 اموات شدید دھوئیں اور دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئیں۔

محکمے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آگ لگنے کے واقعے کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کا فی الحال صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

کینٹ بورڈ کو آگ بجھانی چاہیے تھی، میئر کراچی

دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ عمارت نہ تو ریگولرائزڈ تھی اور نہ ہی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ فیصل کے دائرے میں آتی ہے، اس لیے کنٹونمنٹ بورڈ کو آگ بجھانے کی ذمہ داری نبھانی چاہیے تھی۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ کی خدمات کو سراہنے کے بجائے اعلیٰ حکام کی جانب سے خبردار کیا جاتا رہا۔

انہوں نے اس واقعے پر ہونے والی میڈیا رپورٹنگ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پوچھا کہ جب کنٹونمنٹ بورڈ فیصل کو معائنہ کرنا چاہیے تھا تو پھر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا نام کیوں اچھالا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کم از کم مسئلے کی نشاندہی کی جانی چاہیے، میں بار بار کہتا ہوں کہ ہمارے شہر میں ایک سے زیادہ دائرہ اختیار ہمارے شہر میں قانون کے نفاذ کے لیے سب سے بڑا درد سر ہیں، اس مسئلے کا آسان حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ معاملات پائیدار طریقے سے حل نہیں کیے جا سکتے۔

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ اداروں کو فعال ہونا چاہیے، ایسے معاملات میں ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، ہمیں غلطی سے سیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے۔

میئر کراچی نے کہا کہ اگر حفاظتی اقدامات جیسے کہ سپرنکرز موجود ہوتے تو آگ پر قابو پایا جا سکتا تھا اور اگر فائر سیفٹی ایگزٹ ہوتے تو شہری بروقت بچ سکتے تھے۔

میئر نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے 432 عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا لیکن عمارتیں خطرناک ہونے کے باوجود لوگوں نے انہیں خالی نہیں کیا، ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے کراچی میں منعقدہ ایک سمپوزیم میں سٹی پلانرز، انجینئرز اور بلڈنگ پلان کے ماہرین نے نشاندہی کی تھی کہ کراچی میں تقریباً 90 فیصد رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارتوں میں آگ سے بچاؤ اور آگ بجھانے کا نظام موجود نہیں ہے۔

سمپوزیم میں موجود تمام ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جیسے ریگولیٹری اداروں کی مجرمانہ غفلت نے شہر کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں