حماس کے سینئر عہدیدار نے امریکی ارب پتی بزنس مین ایلون مسک کو غزہ کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی تباہی کا منظر بھی دیکھیں۔‘

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سینئر عہدیدار اسامہ حمدان نے لبنان کے دار الحکومت بیروت میں پریس کانفرنس کی اور سماجی پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک کو غزہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایلون مسک کو غزہ کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ غزہ کے عوام کے خلاف ہونے والے قتل عام اور تباہی دیکھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’50 دنوں کے اندر اسرائیل نے 40 ہزار ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد کی مدد سے غزہ کے لوگوں کے گھر اجاڑ دیے، امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات پر نظرثانی کریں اور انہیں ہتھیاروں کی فراہمی بند کریں۔‘

یاد رہے کہ 27 نومبر کو ایلون مسک نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی ملاقات کی تھی۔

دورے کے دوران انہوں نے اس علاقے کا بھی دورہ کیا جب 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیلی قصبوں پر اچانک حملہ کیا تھا جسے بعدازاں حماس کی جانب سے ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ایلون مسک نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے دوران ہونے والے دورے کے بعد غزہ پر اسرائیل کی جنگ کی حمایت کی تھی۔

اسی دورے کے دوران ایلون مسک نے اسرائیل کی مرضی کے بغیر غزہ کو اسٹار لنک سیٹلائیٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سروس فراہم نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ایلون مسک کی جانب سے اسرائیل کا دورہ کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔

دورے کے دوران ایلون مسک کو حماس کے حملے کی فوٹیج بھی دکھائی گئی اور انہوں نے ایسے خاندانوں سے بھی ملاقات کی جن کے عزیز حماس کی قید میں تھے۔

ایلون مسک نے نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ’قتل عام کا منظر دل دہلا دینے والا تھا، اسرائیل کے پاس حماس کو ختم کرنے کے علاوہ ’کوئی آپشن نہیں ہے‘۔

مختصر گفتگو کے دوران ایلون مسک اور نیتن یاہو نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حماس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

ایلون مسک نے کہا کہ ’اس کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے, نفرت کو روکنے کے لیے جو بھی ضروری ہے وہ کرنا پڑے گا۔‘

قبل ازیں ان کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین ایلون مسک کو یہود مخالف ٹوئٹ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں، جس کے بعد والٹ ڈزنی سمیت اہم کمپنیوں نے ایکس کو اشتہارات دینے پر پابندی عائد کردی تھی۔

یاد رہے کہ 27 اکتوبر کو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر شدید بمباری کرتے ہوئے غزہ کا مواصلاتی ٹاورز تباہ کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا، فون لائنز، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کام نہیں کر رہے تھے، غزہ میں پہلے ہی مواصلات، توانائی، خوراک، پانی، ادویات کی شدید کمی تھی۔

انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کے بعد سماجی پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے مالک ایلون مسک نے غزہ میں اسٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ فراہمی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اسرائیل نے ایلون مسک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ اسٹارلنک کے ذریعے غزہ میں انٹرنیٹ فراہمی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں