اسلام آباد ہائیکورٹ: شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 21 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا—فائل/فوٹو: اے پی پی
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 21 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا—فائل/فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

سابق وزیر انسانی حقوق کی جانب سے لسٹ سے اپنا نام خارج کرنے کی درخوست پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فیصلہ سنایا۔

شیریں مزاری کی نمائندگی بیرسٹر احسن جمال پیرزادہ نے کی، ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کے پاس موجود تحریری فیصلے کی نقل کے مطابق شیریں مزاری کو اخبارات اور رسائل کے ذریعے پتا چلا کہ ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے۔

9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں کے چند ہفتے بعد 29 مئی کو پی ٹی آئی کی سابق رہنما کا نام اسلام آباد پولیس کی سفارشات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔

القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد مظاہروں کے بعد مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے 13 رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا، سابق وزیر انسانی حقوق کو متعدد بار ضمانت دی گئی تاہم انہیں ہر بار دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

بعد ازاں، شیریں مزاری نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ متحرک سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہیں۔

شیریں مزاری نے کہا تھا کہ 12 روز تک میری گرفتاری، اغوا اور رہائی کے دوران میری صحت کے حوالے سے اور میری بیٹی ایمان مزاری کو جس صورتحال اور آزمائش سے گزرنا پڑا، میں نے جیل جاتے ہوئے اس کی وڈیو بھی دیکھی جب میں تیسری مرتبہ جیل جارہی تھی تو وہ اتنا رو رہی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ میرے بچے، میری والدہ اور میری صحت میری ترجیح ہیں، اب میں ان پر زیادہ توجہ دوں گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ شیریں مزاری کا نام لسٹ میں ڈالنا ناانصافی اور غیر قانونی تھا، مزید کہا کہ ان کے بنیادی حقوق کو خطرے میں ڈالا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ شیریں مزاری کو کبھی شو کاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا یہ اسلام آباد پولیس کی ’بدیانتی اور مذموم مقاصد‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کسی شخص کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں اُس وقت ڈالا جاتا ہے جب وہ کسی ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہو یا ان کا بیرون ملک کا دورہ ریاستی مفادات کے خلاف سمجھا جائے، شیریں مزاری کے خلاف ان میں سے کوئی بھی الزام نہیں تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لکھا کہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ مصطفیٰ جمال قاضی کو حکم دیا جاتا ہے کہ شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے اور ایک ہفتے کے اندر عملدرآمد رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار کو جمع کروائے گی۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد 21 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں