ویسے تو مقبوضہ کشمیر کو بہت حوالے سے شہرت حاصل ہے، تاہم اسے زعفران کی زیادہ پیداوار کے حوالے سے بھی خطے میں پہچانا جاتا ہے اور بھارت میں تیار ہونے والی 90 فیصد زعفران وادی کشمیر میں ہی پیدا ہوتی ہے۔

تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جہاں مقبوضہ کشمیر میں دیگر مسائل پیدا ہو رہے ہیں، وہیں زعفران کی پیدوار بھی سخت متاثر ہوئی ہے اور وہاں کے کسان مسائل کا شکار ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے پامپور میں سب سے زیادہ زعفران تیار ہوتی ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب اس کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوچکی ہے۔

زعفران تیار کرنے والے کسانوں کے مطابق کچھ سال قبل زعفران کا ایک پھول کم از کم پانچ بار پھولتا تھا لیکن اب یہ زیادہ سے زیادہ تین بار پھولتا ہے جب کہ عام طور پر پھول دو بار ہی پھولتا ہے۔

زعفران پھولوں نما ایک کاشت حاصل کی جاتی ہے، نیلے رنگ کے پھولوں کو خشک کرنے کے بعد ان سے زعفران حاصل کیا جاتا ہے۔

ایک کلو زعفران کے لیے ڈھائی سے تین لاکھ پھولوں کی ضرورت پڑتی ہے اور زعفران کا ایک کلو پاکستانی تقریبا ساڑھے چار لاکھ روپے میں فروخت ہوتا ہے۔

زعفران کو دنیا کی سب سے مہنگی جڑی بوٹی یا مصالحہ قرار دیا جاتا ہے، جسے ادویات سمیت کھانوں اور مشروب میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جب کہ کاسمیٹک مصنوعات میں بھی اس کا اچھا خاصا استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں زعفران کو کھانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جب کہ حکیم اس سے کئی معجونوں اور ادویات کی تیاری میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر زعفران کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جب کہ اب کسان بھی ماضی کے مقابلے اس کی فصل تیار نہیں کرتے۔

بی بی سی کے مطابق ماضی میں 57 ہزار ایکڑ رقبے پر زعفران تیار کی جاتی تھی لیکن اب 11 ہزار ایکڑ رقبے پر اس کی فصل اگائی جاتی ہے۔

دوسری جانب مقامی کسان موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے زعفران کو کنٹینرز اور گھروں کے اندر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بھی تیار کر رہے ہیں لیکن اس باوجود اس کی مجموعی پیدوار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں