ماحولیات سے متعلق بڑھ چڑھ کر کام کرنے والی بولی وڈ اداکارہ دیا مرزا کا کہنا ہے کہ انا پرست مرد سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہیں، وہ خود کو بدلنے کے لیے تیار ہی نہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے `بی بی سی’ کو انٹرویو کے دوران انہوں نے ماحولیاتی مسائل سمیت شوبز کیریئر پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ ماضی میں لوگ سالوں تک پرانے کپڑے پہننے کو ترجیح دیتے تھے لیکن اب ہر بار نئی چیزیں استعمال کرنے کا رجحان بڑھ چکا ہے۔

دیا مرزا ’بی بی سی کی رواں سال کی 100 بہترین خواتین کی فہرست‘ میں بھی شامل ہیں، انہیں بطور اداکارہ ماحولیات سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے کام کی وجہ سے لسٹ میں جگہ دی گئی۔

انہوں نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ماحولیات کو بہتر بنانے کے لیے رہنماؤں کو پہلے خود کو بدلنا ہوگا، انہیں عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ عملی طور پر ثابت کرنے کے لیے اپنے بیٹے کی سالگرہ پر پرانی سالگرہ کی تمام چیزیں استعمال کریں گی، وہ سجاوٹ کے لیے کوئی نئی چیز نہیں منگوائیں گی۔

اسی طرح انہوں نے دوران انٹرویو ہوٹل کے پانی کی بوتل کو استعمال کرنے سے گریز کرتے ہوئے اپنی ہی بوتل استعمال کی۔

دیا مرزا کا کہنا تھا کہ آج کل انا پرست مرد ہی سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہیں جو اس وقت ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بیٹھ کر ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو انسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق آلودگی پھیلانے والوں کو بخوبی علم ہے کہ ان کے فیصلے کتنے نقصان دہ ہیں لیکن اس باوجود وہ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں اور ایسے ہی انا پرست سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہیں۔

انہوں نے شوبز سمیت دیگر شعبوں میں صنفی تفریق پر بھی بات کی اور کہا کہ انتہائی سست روی سے تبدیلی آ رہی ہے۔

دیا مرزا کاکہنا تھا کہ ماضی میں بولی وڈ میں ایک خاص عمر کے بعد اداکاراؤں کو کردار ہی نہیں دیے جاتے تھے جب کہ مرد اداکار عمر رسیدہ ہونے کے باجود ہیرو کے طور پر آتے تھے لیکن اب چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں۔

انہوں نے ’دھک دھک‘ نامی فلم کی مثال دی، جس میں ان سمیت چار ادھیڑ عمر خواتین کی کہانی دکھائی گئی ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایسی فلمیں بنانے کے لیے بولی وڈ کو 110 سال جب کہ انہیں کیریئر کے 23 سال گزارنے پڑے۔

انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انہیں پورے کیریئر میں ہر وقت صنفی تعصب کا سامنا رہا، انہیں ان کے چھوٹے قد کی وجہ سے ٹوکا جاتا رہا، انہیں کہا گیا کہ وہ ماڈلنگ کے لیے مناسب نہیں۔

دیا مرزا کے مطابق انہون نے 19 سال کی عمر میں سال 2000 میں ایشیا پیسفک کا خوبصورتی کا مقابلہ جیتا تھا، اس وجہ سے ہرکوئی اگرچہ ان کی رنگت اور حسن کی تعریف کرتا لیکن انہیں کہا جاتا کہ ان کا قد چھوٹا ہے، وہ ماڈلنگ نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ شوبز سمیت ہر شعبے میں صنفی مساوات ہونی چاہئیے، ہر جگہ برابری ہونی چاہئیے، اس لیے انہوں نے اپنی شادی پر مرد پنڈتوں کے بجائے خواتین پنڈتاؤں کی خدمات حاصل کی تھیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں