حکومت کی بہتر معاشی تصویرکشی کے باوجود سود کی ادائیگیاں بدستور چیلنج

اپ ڈیٹ 04 دسمبر 2023
رپورٹ کےمطابق ایکسچینج کمپنی میں اصلاحات اور غیر قانونی لین دین میں کمی کی وجہ سے زرتبادلہ کی شرح مستحکم رہی— فوٹو:آئی اسٹاک
رپورٹ کےمطابق ایکسچینج کمپنی میں اصلاحات اور غیر قانونی لین دین میں کمی کی وجہ سے زرتبادلہ کی شرح مستحکم رہی— فوٹو:آئی اسٹاک

مجموعی طور پر کلی معاشی صورتحال کی مثبت تصوریر کشی کرتے ہوئے نگران وفاقی حکومت اب تکلیف دہ افراط زر میں کمی اور آنے والے مہینوں میں معاشی سرگرمیوں میں مزید اضافے کی توقع کر رہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کے اکنامک ایڈوائزر ونگ نے اپنی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج امید افزا بحالی کے راستے پر گامزن ہے، اقتصادی اقدامات کی پیش قدمی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہی ہے، مگر ساتھ یہ انتباہ بھی دیا کہ زیادہ سود کی ادائیگی اخراجات پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ مثبت اقتصادی اور بحالی کے اشاروں نے مارکیٹ کے جذبات کو متحرک کیا، جس سے نومبر میں کراچی اسٹاک ایکسچینج انڈیکس کو 33 فیصد سے زیادہ بڑھایا اور تاریخ میں پہلی بار 60 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کی۔

انہوں نے مارکیٹ کے جذبات کو ایک مستحکم زری پالیسی اور نومبر میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)کے ساتھ عملے کی سطح کے جائزے سے منسلک کیا اور یہ نوٹ کیا کہ ایکسچینج کمپنیز میں اصلاحات اور غیر قانونی لین دین میں کمی کی وجہ سے زرتبادلہ کی شرح مستحکم رہی، جس نے مجموعی طور پر معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثر ڈالا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حیرت کی بات ہے کہ وزارت خزانہ نے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے گزشتہ ہفتے منظور ہونے والے اقتصادی کارکردگی کے اعدادو شمار کو استعمال نہیں کیا، جس نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 2.13 فیصد پر رکھی اور زیادہ شرح سود کی ادائیگی کو مالی پوزیشن کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا۔

اس رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بہتر مالیاتی کھاتوں کے باوجود شرح سود کی زیادہ ادائیگی اخراجات پر کافی دباؤ ڈال سکتی ہے، تاہم یہ توقع ہے کہ آمدنی میں مضبوط اضافے کے ذریعے مؤثر مالیاتی منتظمیت اور محتاط اخراجات کا طریقہ کار ممکنہ چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور مثبت رجحان رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

اگرچہ وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ دسمبر میں جاری کی مگر اقتصادی کارکردگی کے حوالے سے اس میں استعمال ہونے والے متعدد اعدا و شمار اکتوبر سے لیے گئے ہیں حالانکہ نومبر کے کافی اعداد وشمار بالخصوص افراط زر، درآمدات ، برآمدات، غیر ملکی کرنسی کی پوزیشن، آمدن وغیرہ سے متعلق اب دستیاب ہیں۔

مالی سال 2024 کے پہلے چار مہینوں کے دوران معیشت کی مجموعی کارکردگی حوصلہ افزا ہے کیونکہ ماہانہ اقتصادی اشاریے (ایم ای آئی) اکتوبر 2023 میں مثبت رہے، جس کی وجہ اقتصادی سرگرمیوں کے اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری ہے۔

آؤٹ لک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی صنعتوں کی کارکردگی میں بہتری، ہائی فریکوئنسی ڈیٹا میں مثبت رجحانات، درآمدات میں مناسب اضافہ اور پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیوں کے کمپوزٹ لیڈنگ انڈیکیٹر (سی ایل آئی) میں بہتری مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں محرک فراہم کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تمام فوائد مالیاتی اور بیرونی کھاتوں کی بہتر پوزیشن سے بھی ظاہر ہوتے ہیں، رپورٹ نے 15 نومبر کو آئی ایم ایف کے ساتھ اچھے ماحول پر ہونے والے عملے کی سطح کے معاہدے کے مثبت اثرات کو بھی نوٹ کیا۔

وزارت نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام نے مالیاتی استحکام کو آگے بڑھانے، توانائی کے شعبے کی لاگت میں کمی لانے والی اصلاحات کو تیز کرنے، مارکیٹ پر مبنی شرح تبادلہ کی طرف واپسی، سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے گورننس اصلاحات، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی امدادکو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کی حمایت کی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ اسی مدت میں توانائی کی قیمتوں میں مسلسل ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ مالی سال 2024 کے بجٹ پر عملدرآمد، اور زرمبادلہ مارکیٹ میں نئے بہاؤ نے مالی اور بیرونی دباؤ کو کم کردیا۔

مزید برآں، رپورٹ کے مطابق افراط زر کا دباؤ کم ہو رہا ہے اور آؤٹ لک بہتر ہوا ہے، سپلائی میں رکاوٹوں اور معمولی طلب کے درمیان آنے والے مہینوں میں افراط زر میں کمی متوقع ہے، ان تمام مثبت پیش رفتوں کے ساتھ، آنے والے مہینوں میں ملکی اقتصادی سرگرمیوں میں مزید بہتری کی توقع ہے

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شرح تبادلہ میں استحکام، درآمدی پابندیوں کے خاتمے کی وجہ سے سپلائی رکاوٹوں میں آسانی، اور ڈالر کی بہتر نقدیت اور خاص طور پر کئی ماہ کی کمی کے بعد بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں مثبت رجحان کی واپسی نے اس اقتصادی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔

زرعی شعبے میں ان پٹ کی صورتحال نے مثبت اشارے دکھائے، پچھلے سال اسی مدت کے مقابلے میں مالی سال 2024 میں جولائی تا اکتوبر ٹریکٹر کی پیداوار اور فروخت میں بالترتیب 55.1 فیصد (17ہزار 98) اور 86.8 فیصد (17ہزار 296) اضافہ ہوا۔

مالیاتی محاذ پر محصولات میں صحت مند نمو نے مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اخراجات کی نمو کو پیچھے چھوڑ دیا، ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی دونوں کو کل محصولات میں نمایاں اضافے کی وجہ قرار دیا گیا ، تاہم پیٹرولیم لیوی سے زیادہ وصولیوں کی وجہ سے نان ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ زیادہ وصولی اس اضافے کا بڑا ذریعہ رہا، اس طرح اخراجات کی نسبت محصولات میں صحت مند نمو کے ساتھ مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے ایک فیصد کے مقابلے مالی سال 2024 کے جولائی تا ستمبر میں مجموعی ملکی پیداوار کے 0.9 فیصد پر آ گیا۔

اس رپورٹ نے خوراک، مشروبات، رہائش، گیس، ایندھن، پانی، نقل و حمل اور گھریلو سامان کو مسلسل مہنگائی کو اہم محرک قرار دیا، لیکن امید ظاہر کی کہ جلد خراب ہونے والی فصلوں کے چکر کو مدنظر رکھتے ہوئے نومبر کے آخر اور اس کے بعد سے سپلائی کے دباؤ کو کم کیا جائے گا، مزید برآں ایندھن کی قیمتوں میں استحکام/کمی مہنگائی کے دباؤ کو مزید کم کرنے میں مدد کرے گی۔

ہائی فریکوئنسی اشاروں کی نمایاں کارکردگی اور مہنگائی کے بہتر آؤٹ لک کی وجہ سے زری پالیسی کی شرح کو 22 فیصد پر برقرار رکھا گیا،ر پورٹ کے مطابق مجموعی طور پر مثبت اقتصادی اور بحالی کے اشارے مالی سال کے لیے جی ڈی پی کے منظرنامے میں بہتری کا باعث بن رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں