کوپ 28 کانفرنس میں فنانسنگ، گرین ہاؤس گیس کے اخراج پربحث

05 دسمبر 2023
متحدہ عرب امارات نے بینکوں کے ذریعے 2030 تک گرین فنانسنگ کے لیے 270 ارب ڈالر جمع کرنے کا وعدہ کیا—فوٹو:رائٹرز
متحدہ عرب امارات نے بینکوں کے ذریعے 2030 تک گرین فنانسنگ کے لیے 270 ارب ڈالر جمع کرنے کا وعدہ کیا—فوٹو:رائٹرز

موسمیاتی فنانسنگ کے لیے درکار رقم اور اب تک کی پیش کی جانے والی رقم کے درمیان بڑے فرق کو دور کرنے کی کوشش کر کے لیے دبئی میں کوپ 28 کانفرنس میں فنڈنگ میں اضافہ کا عہد کیا گیا۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس سال ہونے والی کانفرنس کے میزبان متحدہ عرب امارات نے بینکوں کے ذریعے 2030 تک گرین فنانسنگ کے لیے 270 ارب ڈالر جمع کرنے کا وعدہ کیا اور دیگر ترقیاتی بینکوں نے بشمول موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تباہی کی وجہ سے قرضوں کی واپسی میں وقفے سمیت فنڈنگ کے حوالے سے اپنی کوششوں کو بڑھانے کے لیے منصوبوں کا اعلان کیا۔

خطے کی سب سے بڑی معیشت اور پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کے رہنماؤں نے ابھی تک اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی، اس کے برعکس گزشتہ سال مصر کے شرم الشیخ میں ہونے والی کانفرنس کوپ27 میں انہوں کی شرکت تھی۔

تاہم کوپ 28 کی سائیڈلائن پر ہونے والی سعودی گرین انیشی ایٹو فورم میں ویڈیو خطاب کے ذریعے شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے مغرب کی جانب سے نئے موسمیاتی ’لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ۔ میں عطیات کو چھوٹی تبدیلی کہتے ہوئے مسترد کردیا جبکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ریاض کی جانب سے رقم دینے کا اعلان کیا۔

لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ

موسمیاتی آفات سے پہلے ہی شکار ہونے والے کمزور ممالک نئے تشکیل دہ ڈیزاسٹر فنڈ کے ذریعے اربوں روپے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اب تک اس فنڈ میں 70 کروڑ دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔

بارباڈوس کی وزیر اعظم اور موسمیاتی مالیات کو متحرک کرنے کے بارے میں عالمی مباحثوں کی ایک نمایاں آواز میا موٹلی کا کہنا تھا کہ جب تک کہ ہمارے پاس فیصلہ سازی کا فوری سیٹ نہ ہو، ہمیں وہ نقصان اٹھانا پڑے گا جس کا ہر والدین کو سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر عالمی سطح پر مالی سہولیات پر 0.1 فیصد ٹیکس 420 ارب ڈالر جمع کرسکتا ہے، جبکہ 2022 میں عالمی تیل اور گیس منافع میں 5 فیصد ٹیکس سے تقریبا 200 ارب ڈالر تک حاصل ہوسکتے تھے۔

کاربن کریڈٹس

دبئی میں موسم کی گفتگو متنازع کاربن کریڈٹس کے بارے میں قواعد کو ختم کرنے سے پہلے ہی ان کو فروغ دینے کے اعلانات سے بھر گئی، جس سے ماحولیاتی گروپوں کو بڑے پیمانے پر گرین واشنگ کا خدشہ ہے۔

کریڈٹس کے پیچھے کے تصور کو حال ہی میں بڑا دھچکا لگا کیونکہ سائنسی تحقیق نے بار بار یہ دکھایا ہے کہ اسکیموں کے تحت اخراج میں کمی کے دعوے اکثر حد سے زیادہ کیے جاتے ہیں یا وہ بالکل ہی غیر موجود ہوتے ہیں۔

کاربن کریڈٹس کارپوریشن اور ممالک کو چند شرائط کے ساتھ گرین ہاؤس گیس کو خارج کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

ایک کریڈٹ ایک ٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ کو ماحول سے کم کرنے یا اس کے خاتمے کے برابر ہوتا ہے، جسے اکثر ترقی پذیر ممالک میں جنگلات کی کٹائی سے لڑنے جیسی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے والے منصوبوں کے ذریعے کیے جاتا ہے۔

سائنسدان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے اس دہائی میں اخراج میں تقریباً نصف تک کمی کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکا کے موسمیاتی ایلچی جان کیری نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کے ملک کا انرجی ٹرانزیشن ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نیا دلیرانہ خیال ہے۔

تاہم ماحولیاتی گروپوں نے اسی طرح کی اسکیموں کی ماضی کی ناکامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فوری شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

بینک آف امریکا، میکڈونلڈز، مارگن اسٹینلے، پیپسی اور والمارٹ کچھ امریکی کارپوریٹ کمپنیاں ہیں، جو چلی، ڈومینیکن ریپبلک اور نائیجیریا میں پائلٹ پروجیکٹس کے لیے تیار ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں