پی ٹی آئی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ’سوئپ‘ کرے گی، تیمور خان جھگڑا

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2023
پی ٹی آئی رہنما تیمور خان جھگڑا پشاور میں منعقدہ پارٹی کنونشن سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
پی ٹی آئی رہنما تیمور خان جھگڑا پشاور میں منعقدہ پارٹی کنونشن سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

گزشتہ کئی ماہ سے عوامی منظر نامے سے غائب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما تیمور خان جھگڑا بدھ کو پشاور میں منعقدہ پارٹی کنونشن میں منظر عام پر آئے اور دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ’سوئپ‘ کرے گی۔

صوبائی دارالحکومت میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود پی ٹی آئی انتخابات میں کلین سوئپ کرے گی اور اس کی وجہ آپ سب ہیں، اگر آپ کھڑے ہیں تو سب کھڑے ہیں۔

تیمور خان جھگڑا نے ان تمام ساتھیوں اور کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے جیل میں وقت گزارا، جو اب بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اب بھی جیل میں ہیں۔

انہوں نے قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر اور مردان سے سابق ایم این اے مجاہد علی خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جس کا سب سے زیادہ شکریہ ادا کرنا چاہیے وہ عمران خان صاحب ہیں کیونکہ وہ 120 دن سے جیل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لیے ایک ہزار سال جیل میں گزارنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ کسی سے ڈیل نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین رواں سال اگست سے جیل میں ہیں۔

چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اکتوبر میں لندن سے وطن واپس آنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے تیمور خان جھگڑا نے کہا کہ لندن سے آنے والا لاڈلا ایک چیز بھول گیا ہے، وہ بھول گیا ہے کہ پاکستان بدل چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان لاڈلے کی سیاست کو قبول نہیں کرتے اور نوجوان غداروں کی سیاست کو بھی قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے چاہے کتنی ہی مشکلات ہوں، 8 فروری کو ہم ثابت کریں گے کہ ہم یہ ایک آزاد قوم ہیں، خیبر پختونخوا ووٹ کے لیے نکلے گا، ان شااللہ پنجاب بھی نکلے گا، ان شااللہ کراچی میں بھی ایسا ہی ہوگا، سندھ کا بھی ہوگا اور عمران خان اور ان کی عزت کے لیے بلوچستان بھی نکلے گا۔

واضح رہے کہ عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی نے شکایت کی ہے کہ اسے سیاسی سرگرمیاں کرنے سے روکا جا رہا ہے جبکہ 9 مئی کو ملک میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد اس کے کئی رہنماؤں کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں صدر عارف علوی نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو بھی ایک خط لکھا تھا اور بنیادی حقوق سے محرومی اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اس کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عمران نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو ایک خط لکھا تھا اور اپنی پارٹی کے کارکنوں اور صحافیوں کے مبینہ اغوا اور گمشدگیوں کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔

خط میں پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انتخابی مہم چلانے کے لیے پی ٹی آئی کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

تبصرے (0) بند ہیں