امریکا سکھ شہری کی امریکی سرزمین پر مبینہ قتل کی سازش کے حوالے سے بھارتی تحقیقات کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے، بعد ازاں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آیا یہ امریکی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ’دوسرے ممالک میں سیاسی جبر‘ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے بھارت کے اس کے قریبی پڑوس میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے پر خدشات کا اظہار کیا۔

یہ مسائل اس ہفتے ایک کے بعد ہونے والی 2 بریفنگ میں زیر بحث آئے، جن کی توجہ گروپتونت سنگھ پنن کے قتل کی ناکام بھارتی سازش کے اوپر مرکوز تھی، جو نیویارک میں رہائش پذیر ایک سکھ شہری ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کا محتاط ردعمل جنوبی ایشیا اور پیسیفک کے خطے میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کو متوازن کرنے کے لیے واشنگٹن کے چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے جس میں بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اپنے قریبی پڑوس میں ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کا وسیع سوال ایک بنگلہ دیشی صحافی نے اٹھایا، خاص طور پر جب بنگلہ دیش میں 7 جنوری کو عام انتخابات قریب آرہے ہیں، واشنگٹن اور نیویارک میں فعال بنگلہ دیشی صحافی نے بھارت پر بنگلہ دیشی حکومت کے مخالفین کو قتل کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان میتھیو ملر سے جب اس معاملے پر امریکا کی پالیسی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جبر کی مخالفت کرتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ یہ کہاں ہوتا ہے یا کون کر رہا ہے۔

تاہم، میتھیو ملر نے واضح کیا کہ یہ تبصرہ بھارت کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے حوالے سے ہے۔

میتھیو ملر نے گرپت ونت سنگھ کو قتل کرنے کی بھارت کی مبینہ کوشش کے بارے میں نشاندہی کی کہ یہ ایک جاری قانونی معاملہ ہے اور امریکی حکومت ایسے معاملات پر عوامی سطح پر بات کرنے سے گریز کرتی ہے۔

انہوں نے روشنی ڈالی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سطح پر اس معاملے کو جس سنجیدگی کے ساتھ ہینڈل کیا جا رہا ہے ، مزید کہا کہ کیس کی تفصیلات کے لیے محکمہ انصاف سے رجوع کیا جائے۔

میتھیو ملر نے انکشاف کیا کہ امریکی حکومت نے اپنے تحفظات کو اعلیٰ ترین سطح پر بھارتی حکومت تک پہنچایا، رابطے کے ایک سفارتی چینل پر زور دیا اور دو طرفہ تعلقات میں صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔

جب مزید مخصوص تفصیلات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے اپنے غیر ملکی ہم منصب کے ساتھ براہ راست اس معاملے کو اٹھایا ہے، اور زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

میتھیو ملر کے مطابق بھارتیوں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کروائی،انہوں نے عوامی طور پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

میتھیو ملر کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم تحقیقات کے نتائج دیکھنے کا انتظار کریں گے، لیکن یہ ایسی چیز ہے، جسے ہم بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

بھارتی تعاون پر اعتماد کے اظہار کا عندیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کینیڈا میں ایک اور خالصتانی رہنما کے قتل کی تحقیقات میں تعاون کرے۔

تاہم، انہوں نے تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قبل از وقت تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا یہ واقعہ امریکی خودمختاری پر حملہ ہے، میتھیو ملر نے براہ راست جواب نہیں دیا، ان کا کہنا تھا کہ میں ان تفصیلات کی بات نہیں کروں گا، جو معلومات فرد جرم میں شامل ہیں اور جو میرے خیال میں یہ کافی واضح وجوہات ہیں۔

یہ مبینہ سازش سے متعلق تفصیلات کو ظاہر کرنے کے لیے واشنگٹن کے محتاط انداز کی نشاندہی کرتا ہے، جبر کی مخالفت پر زور، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جاری کارروائیاں، بھارت کے ساتھ سفارتی رابطے، اور مکمل تحقیقات کی توقع اس سنگینی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے ساتھ امریکی حکومت صورتحال کو دیکھتی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں