پاور ڈویژن نے نیپرا کی رپورٹ پر ایک اور ’آزاد اور غیر جانبدار کمیٹی‘ تشکیل دے دی ہے جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) پر بجلی کی فراہمی میں بددیانتی اور زائد بلنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیپرا کی انکوائری رپورٹ کی تحقیقات کے لیے سیکریٹری پاور ڈویژن کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی سربراہی سابق سیکریٹری پاور عرفان علی کریں گے۔

اس میں زرغام اسحٰق خان، جو نیسپاک (پاور ڈویژن کے تحت کام کرنے والی کمپنی) کے سربراہ ہیں، پبلک سیکٹر پاور کمپنیوں کے سابق ایگزیکٹو عابد لودھی اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض چوہدری شامل ہیں۔

نیپرا کی انکوائری میں پتا چلا کہ ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ گھریلو صارفین کو بجلی کی تمام کمپنیوں کی جانب سے 30 دن سے زائد مدت کے بل بھیجے گئے، غیرمنصفانہ تکنیکوں کے ذریعے لاکھوں افراد سے زائد بل وصول کیے گئے، لاکھوں صارفین کو خراب میٹر کے بہانے ’اوسط‘ بل بھیجے گئے۔

یہ شاید پہلا موقع ہے کہ کسی ریگولیٹری ادارے کی جانب سے اپنے ریگولیٹڈ اداروں یا لائسنسوں کی کارکردگی کی تحقیقات ان اداروں کے انتظامی سربراہ کے ذریعے قائم کی گئی کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی۔

اس سے پہلے وزیر اعظم آفس ریگولیٹر کی تحقیقات کے ذریعے اس طرح کے انکشافات کا نوٹس لیتا تھا اور تعزیری اور اصلاحی اقدامات کرنے سے پہلے تحقیقات کا حکم دیتا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار بھی وزیر اعظم آفس نے نیپرا کی انکوائری رپورٹ کا سخت نوٹس لیا تھا تاہم پاور ڈویژن نے وزیر اعظم آفس کے ساتھ کافی بات چیت کے بعد کمیٹی تشکیل دی۔

دیگر چیزوں کے علاوہ کمیٹی کو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے حکام سمیت نیپرا کی انکوائری کمیٹی کے اراکین کے بیانات کی جانچ پڑتال کرنے، ریکارڈ کرنے اور 15 روز کے اندر یعنی 21 دسمبر تک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ نیپرا کی رپورٹ، اس کی بنیاد، مفروضوں، متعلقہ قوانین، ڈیٹا اور معلومات کا جائزہ لے اور اس میں فراہم کردہ معلومات اور پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) اور متعلقہ ڈسکوز کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا اور معلومات پر انحصار کرے۔

کمیٹی کو مزید ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ڈیٹا، معلومات، دستاویز یا آلے کو بھی مدنظر رکھے جو اس صورت حال کے لیے موزوں اور ضروری ہو اور وہ تمام کام کرے جو نتیجہ خیز ہوں۔

کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ مجاز اتھارٹی کو غور کرنے کے لیے واضح سفارشات پیش کرے اور کارروائی کے دوران اگر انفرادی طور پر کوئی ذمہ دار سامنے آئے تو اس کا تعین کرے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں