فلم ’نامعلوم افراد‘ اور ’قائداعظم زندہ باد‘ جیسی نامور پاکستانی فلمیں بنانے والے ڈائریکٹر نبیل قریشی نے نیٹ فلکس میں پاکستانی مواد نہ ہونے کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اہم وجہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی ہے اور ایک جیسی زبان ہے۔

حال ہی میں نبیل قریشی نے یوٹیوب چینل دی بلیک باکس کو انٹرویو دیا جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کی جانب سے پاکستانی فلمیں نہ خریدنے اور بھارت کا نیٹ فلکس پر اثروسوخ سے متعلق اہم اور تفصیلی گفتگو کی۔

’لوڈ ویڈنگ‘، ’ایکٹر ان لا‘ جیسی نامور فلموں کے ڈائریکٹر نبیل قریشی نے نشاندہی کی کہ جیوپولیٹیکل ماحول نے پاکستانی فلموں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھ سے ہر کوئی سوال پوچھتا ہے کہ میں نیٹ فلکس کے لیے کوئی فلم کیوں نہیں بناتا، اس کی کئی وجوہات ہیں۔‘

نبیل قریشی نے کہا کہ ’میں بہت واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں، کئی لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے، جب سے بھارت اور پاکستان کے حالات خراب ہوئے ہیں نیٹ فلکس کا دفتر پہلے لاس اینجلس میں تھا اور وہیں سے سارے معاملات طے ہوتے تھے، اب انہوں نے بھارت میں ریجنل دفتر بنا لیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایک چیز ذہن میں رکھ لیں کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے اور بھارت، ٹھیک ہے ہم دوستی اور امن وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ایسا ممکن نہیں ہے اور جب سے ریجنل دفتر بھارت میں قائم ہوا ہے پاکستانی مواد بھارت نہیں جارہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے پاکستانی فلموں کے رائٹس خریدے جاتے تھے لیکن اب تو وہ بھی نہیں لیے جارہے اور اگر رائٹس خریدتے بھی ہیں تو اتنے کم پیسوں میں کہ انہیں دینا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

نبیل قریشی نے مزید کہا کہ ’اسی طرح کے مسائل ایمازون کے ساتھ ہیں، کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر معاملات طے نہیں ہوتے، آپ نیٹ فلکس کو دیکھیں وہاں کس طرح کا پروپیگنڈا چل رہا ہے، بھارت جو بھی مواد بناتا ہے اس میں پاکستانیوں کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور شامل کرتا ہے، یہ مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے لیے برا وقت ہے۔‘

فلم ’نامعلوم افراد‘ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ’نیٹ فلکس پر مجموعی طور پر پاکستانی مواد کم ہونے کی ایک وجہ یہی ہے، پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ (نیٹ فلکس) خرید نہیں رہے، اب ہوسکتا ہے کہ انہیں ہمارا مواد پسند ہی نہ ہو یا ہوسکتا ہے کوئی سیاسی وجوہات ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی انڈسٹری بہت بڑی ہے، وہ شاید نیٹ فلکس جیسے 10 پلیٹ فارمز کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہاں زیادہ مواد بنایا جاتا ہے، یہ بڑی انڈسٹری ہے چونکہ ان کی انڈسٹری گزشتہ 100 سال سے مسلسل برقرار ہے اس لیے ان کی انڈسٹری بڑی ہے، ہماری طرح نہیں کہ پانچ سال کام کرنے کے بعد بند ہوجائے، یہ بھارت کے لیے بڑی بات ہے اور انہیں اس کا کریڈٹ بھی دینا چاہیے۔

نبیل قریشی نے نیٹ فلکس میں پاکستانی مواد نہ ہونے کی دوسری وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’دوسری وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کی زبان بھی ایک ہے، اگر ہماری دوسری زبان ہوتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔‘

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بھی بھارتی فلم آئے گی ہم شوق سے دیکھیں گے اور وہ نمبر ون پر ٹرینڈ بھی کر رہی ہوتی ہے، ڈیمانڈ اور سپلائی دونوں موجود ہیں لیکن کچھ منفرد اور مختلف مواد نہیں ہے کہ پاکستانی سامعین مجبوراً ہمارا مواد دیکھیں، شاہ رخ خان اور سلمان خان کی فلمیں ٹاپ ٹرینڈ کر رہی ہوتی ہیں تو نیٹ فلکس ہمارا مواد کیوں خریدے گا؟

نیٹ فلکس پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز بنانے پر نبیل قریشی نے کہا کہ ’اچھی بات ہے کہ بننی چاہیے، لیکن کچھ وجوہات ہیں جس کی بنا پر نیٹ فلکس پاکستانی مواد نہیں خریدتا۔‘

یاد رہے کہ اگست میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ انٹرٹینمنٹ اسٹریمنگ ویب سائٹ و پروڈکشن کمپنی نیٹ فلکس پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز بنانے پر کام کر رہی ہے، جسے ’مومنہ درید فلمز‘ کے بینر تلے بنایا جا رہا ہے۔

امریکی شوبز ویب سائٹ ورائٹی کی رپورٹ کے مطابق ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کے نام سے بنائی جانے والی ویب سیریز میں ماہرہ خان، فواد خان، احد رضا میر، صنم سعید، حمزہ علی عباسی، بلال اشرف، مایا علی، ہانیہ عامر، خوشحال خان، نادیہ جمیل، عمیر رانا، اقرا عزیز اور ثمینہ احمد کو کاسٹ کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلی پاکستانی اوریجنل ویب سیریز کی کہانی اسی نام سے شائع ہونے والے فرحت اشتیاق کے ناول سے ماخوذ ہوگی اور اس کی شوٹنگ پاکستان کے علاوہ برطانیہ اور اٹلی میں بھی کی جائے گی۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ ویب سیریز کتنی اقساط پر مبنی ہوگی اور اسے کب تک ریلیز کیا جائے گا، تاہم ممکنہ طور پر اسے آئندہ برس پیش کردیا جائے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں