غزہ میں ضروری انسانی لائف لائن تباہ ہونے کا خدشہ ہے، وزارت خارجہ

07 دسمبر 2023
ان کا کہنا تھا پاکستان مکمل طور پر اسرائیل کی جانب سےشہریوں کے خلاف اس کی اشتعال انگیز کارروائیوں، طاقت کے استعمال کی مذمت کرتا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
ان کا کہنا تھا پاکستان مکمل طور پر اسرائیل کی جانب سےشہریوں کے خلاف اس کی اشتعال انگیز کارروائیوں، طاقت کے استعمال کی مذمت کرتا ہے — فوٹو: ڈان نیوز

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ضروری انسانی لائف لائن کے تباہ ہونے کا شدید خطرہ ہے، فلسطین اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے ممکنہ طور پر ناقابل تلافی مضمرات کے ساتھ صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے، اس طرح کے نتائج سے ہر قیمت پر گریز کیا جانا چاہیے۔

دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 99 کو نافذ کرنے کے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے جس کا مقصد غزہ میں سلامتی کی سنگین صورتحال اور انسانی تباہی پر سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کروانا ہے، سیکریٹری جنرل کا یہ فیصلہ غزہ کی تباہ کن صورتحال کے ذمہ دارانہ جائزے کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مکمل طور پر اسرائیل کی جانب سے شہریوں اور انفرااسٹرکچر کے خلاف اس کی اشتعال انگیز کارروائیوں اور طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اس کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قررار دیتا ہے، غزہ کے محصور لوگوں نے جو ظلم و ستم برداشت کیے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، جیسا کہ سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر کے نام اپنے خط میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ غزہ میں شہریوں کو شدید خطرات کا سامنا ہے اور غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیکریٹری جنرل کی بین الاقوامی برادری سے اپیل میں ان کے ساتھ ہیں کہ غزہ میں جاری صورتحال کو ختم کیا جائے اور انسانیت سوز تباہی کو روکا جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا چاہیے اور ایک غیر مشروط اور فوری جنگ بندی کا نفاذ کرنا چاہیے اور غزہ کے لوگوں کو نسل کشی سے محفوظ رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کے حمایتیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل پر زور دے کہ وہ غزہ میں اپنی ظالمانہ کارروائیوں اور غیر انسانی محاصرے کو ختم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم طویل مدتی امن اور غزہ کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہیں، خطے میں پائیدار امن بین الاقوامی طور پر متفقہ دو ریاستی حل میں ہے جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطین کی محفوظ، قابل عمل اور خود مختار ریاست کے قیام سے ہوگا جس کا القدس الشریف دارالحکومت ہو۔

’جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے‘

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ کل بھارت میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مستقبل سے متعلق قرارداد منظور کرنے کا پارلیمانی فیصلہ بھارت کے قبضے کو برقرار رکھنے اور ان کی حق خودارادیت سے انکار کرنے کا ایک اور مذاق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جانا ہے، کوئی دوسرا عمل کشمیریوں کے حق خودارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا لہٰذا ہم کسی بھی ایسے اقدام کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں جو کشمیر میں بھارت کے قبضے کو برقرار رکھے۔

’امریکی حکام کے دوروں کا سلسلہ اس ہفتے شروع ہو رہا ہے‘

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ امن برقرار رکھنے کے 5 اور 6 دسمبر کو گھانا میں ہونے والے وزارتی اجلاس میں افریقہ میں پاکستانی سفیر اور ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ برائے افریقہ شہریار اکبر نے پاکستان کی نمائندگی کی، انہوں نے امن برقرار رکھنے کے چیلنجز پر روشنی ڈالی اور امن کے محافظین اور آبادی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے رکن ممالک کے ساتھ نئی شراکت داری کا اعادہ بھی کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں پاکستان نے 19 وعدے پیش کیے جو ہماری یو این پیس کیپنگ کے ساتھ عزم کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان وعدوں میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن یونٹ، انفنٹری بٹالین، خواتین امن کیپرز کی تعداد میں اضافہ، ہیلی کاپٹر یونٹ اور قابل تجدید توانائی کے وسائل شامل ہیں۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا پاکستان اور میکسیکو کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کے چھ روزہ مذاکرات کا ایک راؤنڈ کا انعقاد 5 دسمبر کو اسلام آباد میں ہوا، ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ برائے امریکا نے پاکستانی وفد کی قیادت کی، بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا جس میں تجارت، زراعت، سرمایہ کاری اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام کے دوروں کا ایک سلسلہ اس ہفتے شروع ہو رہا ہے جس میں اسسٹنٹ سیکریٹری برائے آبادی، مہاجرین اور نقل مکانی، افغانستان کے خصوصی نمائندے اور ریاست کے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری شامل ہیں، یہ دورے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا ایک حصہ ہیں جن میں مختلف مسائل بشمول افغانستان کی صورتحال شامل ہے مگر یہ صرف اسی حد تک محدود نہیں ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں