عائشہ منزل پر آتشزدگی کی نذر ہونے والی عمارت قابل رہائش قرار

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2023
آگ لگنے کے نتییجے میں تین افراد جاں بحق اور درجنوں فلیٹ اور دکانیں تباہ ہو گئیں — فوٹو: اے پی پی
آگ لگنے کے نتییجے میں تین افراد جاں بحق اور درجنوں فلیٹ اور دکانیں تباہ ہو گئیں — فوٹو: اے پی پی

کراچی کے علاقے عائشہ منزل پر آتشزدگی کی نذر ہونے والے عرشی شاپنگ سینٹر کی عمارت کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے رہائش کے قابل قرار دے دیا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی انسپکشن ٹیم کی سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل بینش شبیر نے متاثرہ عمارت کے دورے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ عمارت مخدوش نہیں اور قابل رہائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمارت کے گراؤنڈ اور میزانائن فلور شدید متاثر ہوئے ہیں اور عمارت کے ستون کی معمولی مرمت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسپکشن رپورٹ آج ہی جاری کردی جائے گی جس کے بعد متاثرین عمارت میں جلد رہائش اختیار کرسکیں گے۔

بعد ازاں کو متاثرہ عمارت کے مکینوں کو عمارت میں جانے کی اجازت دے دی گئی اور فی الحال مکینوں کو فلیٹ میں آگ سے بچا ہوا سامان نکالنے کی اجازت ہو گی اور رہائش کی اجازت بعد میں دی جائے گی۔

نگران وزیر اعلیٰ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر برہم، انکوائری کا حکم

دوسری جانب نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے کہا ہے کہ عائشہ منزل پر چھ منزلہ کمرشل اور رہائشی عمارت عرشی منزل میں آتشزدگی کا واقعہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ شہری اداروں اور ان کے افسران کی مکمل ناکامی کے ساتھ ساتھ مجرمانہ غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اگر تمام تعمیراتی قواعد پر عمل درآمد کیا ہوتا تو اتنی بڑی آگ سے تین بے گناہوں کی جانیں نہ جاتیں اور 74 اپارٹمنٹس اور 130 دکانیں تباہ نہ ہوتیں۔

انہوں نے واقعے کی انکوائری کا حکم دیا تاکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر عمارت کو فائر سیفٹی سسٹم اور فائر ٹینڈر کے راستوں جیسے حفاظتی اقدامات سے لیس ہونا چاہیے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام اہم حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ رہائشیوں اور تاجروں کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا اور سندھ حکومت رہائشیوں اور تاجروں کی مدد کرنے کی کوشش کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں مقبول باقر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جب تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عمارت کا معائنہ کر کے اس کی حیثیت کا تعین نہیں کرتی، اس وقت تک کسی کو بھی جلے ہوئے اپارٹمنٹس میں رہنے کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ لوگوں کے لیے کیمپ لگانے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ عمارت کا معائنہ کرنے تک وہاں رہ سکیں، جبکہ عمارت میں رہنے والوں کو ایک، ایک کر کے اپنے اپنے فیلٹوں میں جانے کی اجازت ہو گی تاکہ وہ اپنی گھریلو اشیا کو محفوظ بنا کر اپارٹمنٹ کو تالا لگا دیں۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ نے جلی ہوئی عمارتوں اور دکانوں کا معائنہ کیا اور متاثرہ افراد سے ملاقات کی، انہیں بتایا گیا کہ آگ سے 74 اپارٹمنٹس اور 130 دکانیں جل گئیں البتہ عمارت کی پچھلی جانب فلیٹ محفوظ رہے۔

ڈپٹی کمشنر سینٹرل فواد سومرو نے وزیراعلیٰ کو جائے وقوع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عرشی منزل گلبرگ سب ڈویژن میں بدھ کی شام تقریباً 5 سے سوا پانچ بجے کے درمیان آگ مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

انہوں نے بتایا کہ آگ ابتدائی طور پر گراؤنڈ فلور پر واقع کمرشل دکانوں میں لگی، گراؤنڈ فلور پر فرنیچر، گدے، پرفیوم اور جیولری کی بہت سی دکانیں ہیں اور آگ نے اچانک تمام دکانوں اور چار رہائشی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ڈپٹی کمشنر سینٹرل نے مزید بتایا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے بروقت موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی اور آگ کی شدت کی وجہ سے اسے بجھانے میں کافی وقت لگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں فرنیچر مارکیٹ کی دکان میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ آگ لگنے کے نتیجے میں پوری عمارت کی حالت خستہ ہو گئی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں