پی آئی اے میں بدانتظامی اتنی بڑھ چکی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، فواد حسن فواد

07 دسمبر 2023
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نگران حکومت نے سب سے زیادہ توجہ شفافیت پر دی ہے — فوٹو: ڈان نیوز
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نگران حکومت نے سب سے زیادہ توجہ شفافیت پر دی ہے — فوٹو: ڈان نیوز

نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں بھی بدانتظامی اتنی بڑھ چکی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، ان حالات میں پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بننا ممکن ہی نہیں ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہ زیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری نے کہا کہ ’جب دیوار پر لکھا نظر آرہا ہو تو فیصلے لے لینے چاہئیں، کوئی بھی جماعت اقتدار میں آجائے پی آئی اے کا بوجھ مزید اٹھانے کا آپشن اب ٹیبل پر نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ سیاست میں دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ پی آئی اے میں بھی بدانتظامی اتنی بڑھ چکی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، ان حالات میں پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بننا ممکن ہی نہیں ہے۔

فواد حسن فواد نے پی آئی اے کی تباہی کی ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ حیران کن طور پر جو سیاسی جماعت ترمیم کر کے گئی وہی اس کے خلاف بول رہی ہے۔

نجکاری کی شفافیت کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نگران حکومت نے سب سے زیادہ توجہ شفافیت پر دی ہے، جبکہ اب تک اپنایا جانے والا طریقہ کار مکمل شفاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئر لائنز کی نجکاری کے لیے ایئربلیو کے علاوہ تمام ایئرلائنز سے بات کی ہے، نجکاری کے لیے وفاقی کابینہ ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے گی، جبکہ اس ماہ کے آخر تک ری اسٹرکچرنگ کا منصوبہ ایس ای سی پی کے پاس لے جائیں گے۔

’اسٹیل ملز اسکریپ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے‘

پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ 8 سال سے بند پڑی اسٹیل ملز اب اسکریپ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے، 50 سال کے بعد اس وقت اسٹیل ملز کا اثاثہ اسٹیل مل نہیں بلکہ اس کی زمین ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز مینجمنٹ کام تو کوئی نہیں کر رہی لیکن چوری روکنے میں بھی ناکام ہے۔

اسٹیل ملز کو ایکٹو نجکاری فہرست سے نکالے جانے کے سوال کے جواب میں نگران وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسٹیل مل کے لیے 4 بولیوں میں سے 3 بولی لگانے والے چلے گئے، جس وجہ سے اسٹیل ملز کی نجکاری روکنا پڑی۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں