لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کی انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کی درخواست لارجر بینچ ارسال

08 دسمبر 2023
درخواست میں تحریک انصاف نےکہا کہ الیکشن کمیشن کا حکم غیر قانونی اور آئین کے بھی منافی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست میں تحریک انصاف نےکہا کہ الیکشن کمیشن کا حکم غیر قانونی اور آئین کے بھی منافی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے الیکشن کمیشن کے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کے فیصلے کے خلاف درخواست کو 5 رکنی لارجر بینچ کو بھیج دی۔

جسٹس شجاعت علی خان نے چیمبر میں تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے پی ٹی آئی کی درخواست پانچ رکنی لارجر بنچ کو بھجوا دی۔

درخواست میں تحریک انصاف نے استدعا کی کہ لاہور ہائی کورٹ الیکشن کمیشن کا دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم کالعدم قرار دے، الیکشن کمیشن کا حکم غیر قانونی اور آئین کے بھی منافی ہے۔

یاد رہے کہ 7 دسمبر کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کا دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

تحریک انصاف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ مئی 2021 میں الیکشن کمیشن کے خط اور جولائی 2021 میں ای سی پی کی جانب سے جاری شو کاز نوٹس میں درخواست گزار (پی ٹی آئی)کو انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا حکم دیا گیا تھا، درخواست گزار نے کووڈ-19 کی وجہ سے انتخابات کے انعقاد کے لیے وقت مانگا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے انہیں جون 2022 تک کا وقت دے دیا تھا۔

مزید کہا گیا کہ اسی دوران درخواست گزار نے 8 جون 2022 کو تحریک انصاف کے آئینی آرٹیکل 5 کی شق 5 میں ترمیم کی تھی، جس کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا تھا، پھر پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا انتخاب جون 2022 میں ہوا اور اس کا نوٹی فکیشن بھی الیکشن کو بھیج دیا گیا، اس الیکشن کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا۔

اس مزید کہا گیا کہ ای سی پی نے کبھی بھی آئینی ترمیم اور انتخابات کے انعقاد کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑے نہیں کیے۔

یہ بات واضح رہے کہ اگست 2022 میں بھی تحریک انصاف نے اپنے آئین میں ترمیم کی تھی جو منظور ہونے سے پہلے ہی ای سی پی کو بھیج دی گئی، تاہم آرٹیکل5 کے ساتھ ترمیم شدہ آئین جمع کروانے اور پورے آئین میں ترمیم کے شواہد نہ ہونے پر 28مارچ 2023 کو الیکشن کمیشن میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے جمال انصاری نے اگست 2022 میں ہونے والی ترمیم کو واپس لانے کی درخواست کی مگر ای سی پی نے 31 جولائی 2023 تک کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، اور 31 جولائی کو ہی جاری ہونے والے حکم نامے میں ای سی پی نے پیٹشنر کو 4 اگست 2023 کو سماعت کے حوالے سے نوٹیفائی کیا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے ای سی پی کو مطلع کیا کہ ان کو 28 مارچ 2023 کے نوٹیفیکیشن کے حوالے سے معلوم نہیں تھا کیونکہ وہ 31 جولائی کو ہی ای سی پی ویب سائٹ پر اپلوڈ ہوا، اس کے بعد سماعت 13 ستمبر 2023 کو ہوئی اور الیکشن کمیشن نے زبانی یہ حکم جاری کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہو چکے ہیں اور درخواست گزار کے وکیل کو بتایا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، مگر جب طویل وقت گزر جانے کے باوجود فیصلہ نہیں جاری کیا گیا، تو درخواست گزار نے آر ڈی کی نقل کے لیے مختلف درخواستیں دائر کی۔

بعد ازاں، 23 نومبر 2023 کو ای سی پی نے حکم جاری کیا کہ پیٹشنر نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے جو الیکشن کمیشن کے پرانے احکام کے برعکس تھا اور 20 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانے کا حکم دیا، یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق تحریک انصاف نے 2 دسمبر 2023 کو انٹرا پارٹی انتخابات منعقد بھی کروائے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں