غزہ میں اسرائیلی بمباری کے درمیان بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ

08 دسمبر 2023
بغداد سفارتخانے کے کمپلیکس اور یونین تھری کے نزدیک امریکا اور اتحادی افواج پر راکٹ حملہ کیا گیا — فوٹو: رائٹرز
بغداد سفارتخانے کے کمپلیکس اور یونین تھری کے نزدیک امریکا اور اتحادی افواج پر راکٹ حملہ کیا گیا — فوٹو: رائٹرز

عراق میں امریکی مشن نے کہا ہے کہ جمعے کو بغداد کے سخت سیکیورٹی والے گرین زون میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملہ کیا گیا، یہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے درمیان اس طرح کے حملوں کی تازہ ترین لہر ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ بغداد سفارتخانے کے کمپلیکس اور یونین تھری کے نزدیک امریکا اور اتحادی افواج پر راکٹ حملہ کیا گیا جس میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

امریکا، عراق اور ہمسایہ ملک شام میں جنگجوؤں سے لڑنے والے اتحاد کی قیادت کرتا ہے اور ان کی فورسز پر حالیہ ہفتوں میں ایک کے بعد ایک حملے ہوئے ہیں۔

یہ حملے بظاہر غزہ پٹی میں امریکا کے اتحادی اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان دو ماہ سے جاری جنگ کے پس منظر میں ہوئے۔

ایک بیان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ صبح 4 بج کر 15 منٹ پر مشن کمپاؤنڈ میں دو راکٹ حملے کیے گئے۔

امریکی ترجمان نے بتایا کہ یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملے ایران سے منسلک جنگجوؤں نے کیے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر عراق کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سفارتی اور اتحادی پارٹنر اہلکاروں اور سہولیات کے تحفظ کے لیے اپنی طاقت کے مطابق ہر ممکن کوشش کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے دفاع اور دنیا میں کہیں بھی اپنے افسران کی حفاظت کا حق رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ اکتوبر کے وسط سے عراق اور شام میں موجود امریکی اور اتحادی فورسز پر ایران کے حمایتی گروہ کی جانب سے درجنوں راکٹ اور ڈرون حملے کیے جاچکے ہیں۔

تاہم جمعے کو ہونے والا حملہ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والے تنازع کے بعد بغداد میں امریکی سفارت خانے میں ہونے والا پہلا راکٹ حملہ ہے، جس سے علاقائی کشیدگی اور وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایک عراقی سیکیورٹی افسر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے والے 3 کتیوشا راکٹ دریائے دجلہ کے قریب گرین زون کے نزد گرے۔

عراق میں تقریباً 2 ہزار 500 اور شام میں 900 کے قریب امریکی فوجی اہلکار شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کی کوششوں کے لیے موجود ہیں۔

لگ بھگ 80 حملے

گزشتہ ہفتے حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 روزہ جنگ بندی کے اختتام پر ایران کے حمایتی گروہ نے امریکا اور اتحادی افواج پر دوبارہ حملوں کا آغاز کردیا تھا، اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی کارروائیوں کا جواز پیش کیا۔

عراق میں زیادہ تر حملے قبول کرنے کا دعویٰ ’اسلامی مزاحمت‘ نے کیا ہے، یہ ایک سابقہ نیم فوجی دستوں کے ’حشد الشعبی‘ اتحاد سے وابستہ مسلح گروہوں کی تنظیم ہے جو اب باقاعدہ طور پر عراق کی مسلح افواج میں ضم ہو گئی ہے۔

امریکی افواج نے جواب میں عراق اور شام دونوں میں ایران سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اتوار کے روز ایک امریکی فوجی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی تھی کہ ایک خطرے کی وجہ سے شمالی عراق میں کرکوک کے قریب ڈرون لانچ سائٹ پر خود دفاعی حملہ کیا گیا، اسلامی مزاحمت نے بعد میں 5 شہادتوں کا اعلان کیا۔

عراقی وزیر اعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق یہ حملہمحمد شیعہ السوڈانی کے امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ فون کال کے ایک دن بعد ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بغداد نے عراقی سرزمین پر کسی بھی حملے کو مسترد کر دیا ہے۔

محمد شیعہ السوڈانی نے یہ بھی کہا کہ عراقی حکومت ملک میں موجود بین الاقوامی اتحاد کے مشیروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

بدھ کوایک امریکی فوجی اہلکار نے کہا تھا کہ ایک ڈرون نے مغربی عراق میں عین الاسد ایئربیس پر مغربی افواج کو نشانہ بنایا، لیکن اس میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

مجموعی طور پر واشنگٹن نے اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے 10 دن بعد، 17 اکتوبر سے عراق اور شام میں اپنی افواج کے خلاف کم از کم 78 حملے ریکارڈ کیے۔

اسرائیل اور حماس کے بحران کا آغاز فلسطینی گروپ کے اسرائیلی سرزمین پر غیر معمولی حملے سے ہوا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً ایک ہزار 200 لوگ مارے گئے اور 240 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے کا عزم کیا اور غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی جس میں علاقے کی حکومت کے مطابق 17 ہزار 177 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکاروں کے خلاف حملوں میں راکٹ فائر اور ڈرون حملے شامل ہیں اور کم از کم 60 امریکی اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں