9 مئی توڑ پھوڑ کیس: عمران خان کی بہنوں، اسدعمر و دیگر کی عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2023
سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی دونوں بہنیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئیں — فائل فوٹو: اے ایف پی/ ایکس
سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی دونوں بہنیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئیں — فائل فوٹو: اے ایف پی/ ایکس

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی دونوں بہنوں، سابق رہنما اسد عمر اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع کردی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے عبوری ضمانتوں پر سماعت کی، شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی تفتیش نامکمل ہے۔

عدالت نے تمام ملزمان کو پیر کو 4 بجے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

بعد ازاں، عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں 9 جنوری تک توسیع کر دی اور اسد عمر کی حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے جناح ہاوس حملہ کیس میں اسد عمر کی ایک دن کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔

واضح رہے کہ 22 نومبر کو 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں اسد عمر اور پارٹی چیئرمین عمران خان کی دونوں بہنوں سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 9 دسمبر تک توسیع کردی تھی۔

اسد عمر کی عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ مقدمے میں ضمانت خارج

بعد ازاں، انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ مقدمے میں پیش نہ ہونے پر اسد عمر کی عبوری ضمانت خارج کی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل نے فیصلہ سنایا، عدالت نے اسد عمر کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست مسترد کردی۔

پسِ منظر

خیال رہے کہ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد بڑے پیمانے پر پُرتشدد مظاہرے ہوئے اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کی بنیاد پر ریاست نے ان کی جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔

فسادات کے دوران توڑ پھوڑ اور تنصیبات جلانے کے بعد سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں جناح ہاؤس حملے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جو لاہور کے کور کمانڈر کی رہائش بھی ہے۔

اگست میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان دونوں فوجی تنصیبات پر حملوں کی تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئیں۔

ایک ذرائع نے بتایا تھا کہ جی آئی ٹی کے سربراہ، ڈی آئی جی (تفتیش) عمران کشور اور دیگر اراکین نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی، دوران سوالات مبینہ طور پر عظمیٰ خان نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر اپنی موجودگی کو تسلیم کیا تھا، تاہم علیمہ خان نے اپنی موجودگی کو مسترد کر دیا تھا۔

19 ستمبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں اسد عمر اور پارٹی چیئرمین عمران خان کی دونوں بہنوں سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 4 اکتوبر تک توسیع کردی تھی۔

4 اکتوبر کو جج ارشد جاوید نے ان کی ضمانت میں 16 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی، جبکہ لاہور پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان اور عظمی خان اور پارٹی کے رہنما اسد عمر کی 9 مئی جناح ہاؤس حملے کے کیس میں گرفتاری مانگ لی تھی۔

16 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کی عبوری ضمانت میں 31 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔

31 اکتوبر کو عدالت نے سابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی بہنوں اور اسد عمر کو 9 مئی واقعات کے خلاف درج مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا تھا، اور جج ارشد جاوید نے عبوری ضمانت پر سماعت کے بعد اسد عمر سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں میں 22 نومبر تک توسیع کردی تھی۔

22 نومبر کو 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں اسد عمر اور پارٹی چیئرمین عمران خان کی دونوں بہنوں سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 9 دسمبر تک توسیع کردی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں