بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، نگران وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 17 دسمبر 2023
جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ بھارت، کشمیریوں کو ان ہی کی سرزمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ بھارت، کشمیریوں کو ان ہی کی سرزمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ آج بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کی منسوخی اور اسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے 5 اگست 2019 کے متنازع فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو مسترد کر دیا، اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ ستمبر 2024 تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتخابات کرائے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ بھارت نے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی، ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد یا اسی طرح کے اقدامات کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی فراہمی کے متبادل کے طور پر کام نہیں کر سکتے، یہ فیصلہ انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزی سے بین الاقوامی برادری کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 سے جاری بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کا مقصد آبادیاتی ڈھانچے اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے مخصوص منظر نامے کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بالخصوص 1957 کی، 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی پاکستان کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس کا حتمی مقصد کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل کرنا ہے۔

’بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘

نگران وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن اور بات چیت کا ماحول بنانے کے لیے ان اقدامات کو واپس لینا چاہیے، پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم جلد ہی تمام اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلائیں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے، جموں و کشمیر عالمی سطح پر ایک تنازع ہے، جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرادادیں موجود ہیں، بھارت کو کسی قسم کے یکطرفہ اقدامات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کشمیری عوام بھارتی یکطرفہ اقدامات کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں، بھارتی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، بھارتی اقدامات کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر سیکیورٹی کونسل، او آئی سی اور یورپی پارلیمنٹ کو خطوط لکھیں گے، پاکستان یہ معاملہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے سامنے اٹھائے گا، پاکستان بھارت کے یکطرفہ اقدامات پہلے ہی دنیا کے سامنے رکھ چکا ہے، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور او آئی سی سمیت تمام عالمی فورمز 5 اگست کے بھارتی اقدامات سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ ہے، اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنا ہوگا، پاکستان بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہر آپشن زیر غور لائے گا۔

’بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ بھی جانبداری سے دیا‘

نگران وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ بھی جانبداری سے دیا اور آج کا فیصلہ بھی اسی نوعیت کا ہے، بھارتی عدلیہ بدقسمتی سے اندھی ہوچکی ہے، 5 اگست 2019 سے آج تک کشمیری عوام پابندیوں کا شکار ہیں، کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، کشمیر میں ظلم و بربریت کی ایک نئی داستان قائم کی گئی، بھارت نے مبصر مشن کو بھی مقبوضہ کشمیر آنے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بھارتی قانونی ماہرین بھی سپریم کورٹ کے فیصلوں میں تضادات کی نشاندہی کر رہے ہیں، بھارت کا کشمیر پر کیس بہت کمزور ہے، بھارت نے مختلف ممالک میں دہشت گردی اور قتل کا جو جال بنایا اس سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان کی کوشش ہے کہ لائن آف کنٹرول پر امن رہے، گزشتہ دو تین سال سے لائن آف کنٹرول پر امن ہے، امن نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کےلیے اہم ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ سے اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ 2018 میں اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق نے جو رپورٹ دی تھی اس میں انہوں نے واضح طور پر یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایک کمیشن آف انکوائری بننا چاہیے تاکہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تعین کیا جاسکے، لیکن اس رپورٹ پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے بھارت سے کوئی مذاکرات نہیں چل رہے، کشمیریوں کو احساس ہے پاکستان ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں