پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وزیر مملکت زرتاج گل کی راہداری ضمانت منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

ڈان نیوز کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے دو صفحات کا مختصر فیصلہ جاری کر دیا، جسے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ محمد ابراہیم خان نے تحریر کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زرتاج گل گوجرانوالہ پولیس کو 10 مئی واقعات سمیت مختلف دفعات میں مطلوب ہیں۔

مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کو درج مقدمات میں گرفتاری کا خدشہ تھا، سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ درخواست گزار پشاور پولیس کو کسی بھی کیس میں مطلوب نہیں ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی ایک لاکھ دونفری ضمانت منظور کی جاتی ہے، درخواست گزار کے پاس اگر کوئی ضمانتی نہیں تو 50 ہزار کیش پیسے عدالت میں جمع کروا سکتی ہیں۔

تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی راہداری ضمانت 13 جنوری تک منظور کی جاتی ہے، درخواست گزار 13 جنوری تک متعلقہ عدالت میں پیش ہوجائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ رات پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روک دیا تھا۔

ڈان نیوز کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے زرتاج گل کی ضمانت کے حوالے سے درخواست کی ہائی کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں ہنگامی بنیادوں پر سماعت کی تھی۔

اس موقع پر سی سی پی او پشاور اور ایس ایس پی آپریشن عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے دوران سماعت کہا تھا کہ اگر کسی کو انصاف نہیں دے سکتا تو مجھے استعفیٰ دے دینا چاہیے، اگر میں نہ پہنچتا تو کیا یہ عورت ساری رات ہائی کورٹ میں گزارتی، آج گیٹ کے باہر میرے 22 گریڈ آفیسر رجسٹرار کی بے عزتی ہوئی ہے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل ضمانت کے لیے پشاور ہائی کورٹ پہنچیں تھیں، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں گرفتار کرنے کے لیے ہائی کورٹ کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت الیکشن کی گہما گہمی ہے لیکن میرے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آج صبح سے پشاور ہائی کورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے آئی ہوئی ہوں اور اگر آپ مجھ سے 9مئی کی مذمت کرانا چاہتے ہیں تو میں 9مئی کے واقعات پر معافی مانگتی ہوں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں